اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں جاری اصلاحات کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ٹیکنالوجی، تربیت، شفافیت اور احتساب کے ذریعے ٹیکس گیپ کم کرنے پر زور دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق ایف بی آر سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحات کے ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں، تاہم ادارے کی صلاحیت میں مسلسل بہتری ضروری ہے۔ انہوں نے ٹیکس وصولی کے شعبوں میں فیس لیس نظام کے نفاذ کو بھی تیز کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اصلاحات کے نتیجے میں گزشتہ تین برس میں تخمینی ٹیکس گیپ جی ڈی پی کے 6 فیصد سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال سے ایف بی آر افسران کے صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ نئے بھرتی ہونے والے افسران کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں تربیت دی جا رہی ہے جبکہ موجودہ عملے کے لیے بھی تربیتی پروگرام جاری ہیں۔ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے peer-rating نظام متعارف کرانے کی اطلاع بھی دی گئی۔
حکام نے بتایا کہ میرٹ پر کنٹریکٹ کے ذریعے 957 آڈیٹرز کو تھرڈ پارٹی آڈیٹر کے طور پر بھرتی کیا گیا ہے، جس سے بورڈ کی آڈٹ صلاحیت چار گنا بڑھنے کا دعویٰ کیا گیا۔ ایف بی آر میں خصوصی تکنیکی عملے کی بھرتی اور کارکردگی سے منسلک مراعاتی نظام سمیت ٹیکنالوجی پر مبنی تنظیم نو بھی جاری ہے۔ یہ اعداد و دعوے اجلاس میں دی گئی سرکاری بریفنگ پر مبنی ہیں۔
وزیراعظم نے بدعنوان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی اور کہا کہ کارکردگی و طرز عمل بہتر کرنے والے اہلکاروں کو اصلاح کا موقع ملنا چاہیے، لیکن مسلسل بدعنوانی یا ناقص کارکردگی کے لیے ادارے میں جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان کے محصولات میں پائیدار اضافہ صرف شرحیں بڑھانے سے نہیں بلکہ ٹیکس بیس، آڈٹ معیار، ڈیجیٹل نگرانی اور منصفانہ نفاذ سے جڑا ہے۔ موجودہ اصلاحات کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ ٹیکس گیپ میں رپورٹ شدہ کمی مستقل رہتی ہے، وصولیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور ٹیکس دہندگان کے لیے نظام زیادہ شفاف اور کم صوابدیدی بنتا ہے۔
