اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی ہدایت کرتے ہوئے اسے نجی شعبے کے ماہرین کی شمولیت سے مؤثر اور فعال ادارہ بنانے کا منصوبہ جلد پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے یہ ہدایات لائیوسٹاک شعبے سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ بورڈ 2007 میں مویشیوں کی افزائش، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافے اور لائیوسٹاک شعبے کی ترقی کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

وزیراعظم نے درآمدی مویشیوں کو خصوصی bonded warehouses میں رکھنے اور ان سے حاصل ہونے والے گوشت اور ڈیری مصنوعات کو ویلیو ایڈیشن کے بعد برآمد کرنے کی سمت کام کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لائیوسٹاک شعبے کی ترقی میں نجی شعبے کو آگے آنا چاہیے۔ حکومت کا مقصد خام یا کم قدر والی پیداوار کے بجائے پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدی آمدن بڑھانا ہے۔

اجلاس میں ایک اہم فیصلہ ملکی سطح پر جدید اور مؤثر لائیوسٹاک ویکسین کی تیاری سے متعلق بھی سامنے آیا۔ وزیراعظم نے وفاقی حکومت کے وسائل سے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں ویکسین پلانٹ قائم کرنے کی حکمت عملی ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت دستیاب لائیوسٹاک ویکسینز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے منظور شدہ نہیں اور ملک میں purified livestock vaccines تیار کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

حکام نے وزیراعظم کو لائیوسٹاک اصلاحات اور برآمدات بڑھانے کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مذبح خانوں کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا عمل شروع ہو چکا ہے اور درآمدی مویشیوں کے لیے مخصوص bonded warehouses قائم کرنے پر بھی کام جاری ہے۔ لائیوسٹاک پاکستان کی زرعی معیشت، دیہی روزگار اور خوراکی صنعت میں بڑا حصہ رکھتا ہے، اس لیے بورڈ کی تنظیم نو، بیماریوں کی روک تھام اور برآمدی معیار کی بہتری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اہداف ہیں۔ اب عملی پیش رفت کا انحصار مجوزہ ادارہ جاتی ڈھانچے، ویکسین پلانٹ کے قابل عمل منصوبے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سپلائی چین قائم کرنے پر ہوگا۔