اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان میں پائیدار اور برآمدات پر مبنی معاشی نمو کے لیے ساختی اصلاحات جاری رکھی جائیں گی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے اسلام آباد میں ’جدید اور نمو دوست ٹیکس نظام کے لیے اصلاحات‘ کے موضوع پر ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی سمت درست ہے اور حکومت اسے دوبارہ تیزی اور بحران کے بار بار آنے والے چکر میں جانے سے روکنا چاہتی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالی خسارہ بائیس سال کی کم ترین سطح پر ہے اور ملک نے مسلسل تین سال بنیادی سرپلس ریکارڈ کیا ہے۔ ان کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گیا، جبکہ گزشتہ دو مالی سال میں ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار وزیر خزانہ کے بیان پر مبنی ہیں اور معاشی کارکردگی کے سرکاری موقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے ٹیکس نظام کو حکومت کے وسیع ساختی اصلاحاتی ایجنڈے کا اہم حصہ قرار دیا۔ ان کے مطابق توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری، پبلک فنانس، پنشن اور ٹیرف کے شعبوں میں اصلاحات بھی اسی پروگرام میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر ٹیکس انتظامیہ پائیدار اور معیاری معاشی نمو کے لیے ضروری رہے گی۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں اور تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کور فراہم کرتے ہیں۔

ورکشاپ میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا شعبے کے ڈائریکٹر جہاد ازعور نے کہا کہ پاکستان نے میکرو اکنامک استحکام، اعتماد کی بحالی اور بیرونی مالی بفرز مضبوط کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق اگلا مرحلہ اس استحکام کو زیادہ مضبوط اور دیرپا معاشی نمو میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے نجی شعبے کی قیادت میں زیادہ پیداواری معیشت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف اس سمت میں پاکستان کی معاونت کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کے لیے اصل امتحان اب استحکام کے دعووں کو سرمایہ کاری، برآمدات، روزگار اور پیداواری صلاحیت میں مستقل بہتری سے جوڑنا ہوگا۔