فلوریڈا: امریکی ریاست فلوریڈا کے پام بیچ کاؤنٹی میں ایک لیرجیٹ 60 رہائشی علاقے کے قریب گر کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام نو افراد ہلاک ہوگئے۔ امریکی حکام کے مطابق نجی طیارہ ٹیکساس کے آسٹن برگسٹروم انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اڑا تھا اور بہاماس کے نارتھ الیوتھرا ایئرپورٹ جا رہا تھا۔

ڈان میں شائع ہونے والی رائٹرز رپورٹ کے مطابق حادثہ لیک ورتھ بیچ کے قریب پیش آیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں طیارے کو تیزی سے زمین کی طرف آتے اور سڑک کے قریب ٹکرانے کے بعد آگ کے بڑے شعلے اٹھتے دکھایا گیا۔ فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے حادثے کو ایک بڑی سانحاتی پیش رفت قرار دیا۔

پام بیچ کاؤنٹی کے ایک عہدیدار کے مطابق طیارہ گرنے سے سڑک کے قریب ایک بڑا گڑھا بن گیا اور قریبی موبائل ہوم پارک کے تقریباً 600 افراد کو احتیاطاً علاقے سے نکال کر دو پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا۔ حکام نے فوری طور پر زمین پر کسی اضافی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن بھی معلومات فراہم کر رہی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق طیارہ کینیڈین کمپنی بمبارڈیئر کا تیار کردہ Learjet 60 تھا اور اس کی ملکیت ڈیلاویئر میں رجسٹرڈ ایک کارپوریشن کے نام تھی۔ بمبارڈیئر نے کہا ہے کہ وہ تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔

حادثے کے وقت علاقے میں شدید بارش اور گرج چمک کی صورتحال رپورٹ ہوئی تھی، تاہم حکام نے ابھی موسم یا کسی تکنیکی مسئلے کو حادثے کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا۔ فضائی ٹریفک کنٹرول کی ریکارڈنگ میں کاک پٹ سے برف جمنے اور درمیانے درجے کی ٹربولنس کا ذکر سنائی دیتا ہے، جس کے بعد عملے نے ہنگامی پیغام دیا اور تیزی سے بلندی کم ہونے کی اطلاع دی۔

رپورٹ کے مطابق آخری لمحات میں طیارے کی نیچے آنے کی رفتار انتہائی تیز ہوگئی تھی۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا نے بھی غیر معمولی عمودی رفتار ریکارڈ کی، لیکن اس ڈیٹا اور کاک پٹ مواصلات کی مکمل تشریح تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس مرحلے پر کسی ایک عامل کو حادثے کا سبب قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

این ٹی ایس بی کی تحقیقات میں عموماً طیارے کی دیکھ بھال، پائلٹ کی کارروائی، موسم، فضائی ٹریفک کنٹرول رابطے اور ممکنہ تکنیکی خرابی سمیت متعدد عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ حتمی وجہ سرکاری تحقیق مکمل ہونے کے بعد ہی متعین ہوگی۔