دوحہ/تہران: ایران نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے رابطے قطری ثالثوں کے ذریعے جاری ہیں، تاہم دوحہ میں ہونے والی تازہ بات چیت کسی فیصلہ کن پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئی۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ ہو چکے ہیں جبکہ ایک ممکنہ معاہدے کا مسودہ فریقوں کے درمیان زیر گردش ہے اور مزید رابطوں کا امکان برقرار ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق تہران کی سات نکاتی تجویز کا مختصر ورژن مذاکرات کی بنیاد بنا ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایرانی شرائط میں امریکی جانب سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنا، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنا اور ایرانی تیل و پابندیوں سے متعلق بعض امریکی پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ ان نکات پر ابھی حتمی اتفاق نہیں ہوا اور انہیں طے شدہ معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ جوہری معاملات پر مذاکرات اس وقت شروع ہو سکتے ہیں جب ابتدائی شرائط پر عمل کی تصدیق ہو جائے۔ تہران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کرنے کے تصور کو مسترد کیا ہے۔ یہ مؤقف مذاکراتی پوزیشن ہے اور اس سے کسی حتمی جوہری سمجھوتے کی ضمانت اخذ نہیں کی جا سکتی۔
قطری ثالث مذاکرات کے بعد تہران واپس گئے ہیں تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان فوجی کشیدگی بدستور موجود ہے اور فریقین کی جانب سے ممکنہ مزید کارروائیوں سے متعلق سخت بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ چین اور روس نے سیاسی حل کی حمایت اور نئی فوجی کشیدگی سے گریز پر زور دیا ہے۔
جنگ اور آبنائے ہرمز سے متعلق خطرات نے عالمی توانائی منڈی اور بحری تجارت پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔ خلیجی خطے میں تجارتی جہاز رانی اور توانائی تنصیبات کی سلامتی کے خدشات کے باعث کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط صرف ایران اور امریکا ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک اور عالمی توانائی صارفین کے لیے بھی اہم ہیں۔
فی الحال سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ دوحہ دور میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی، مگر رابطے منقطع بھی نہیں ہوئے۔ کسی مسودے، سات نکاتی تجویز یا ثالثی کے عمل کو باضابطہ معاہدہ اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک متعلقہ حکومتیں اس کی منظوری اور قابل تصدیق عمل درآمد کا اعلان نہ کریں۔
