اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا انتظام ہے جس کا مقصد بازدارندگی کے ذریعے علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اتحاد کی نوعیت اور ممکنہ توسیع سے متعلق سوالات کے جواب میں یہ مؤقف بیان کیا۔
ترجمان نے کہا کہ اتحاد میں مزید ممالک کی شمولیت فی الحال زیر غور نہیں۔ ان کے مطابق تینوں موجودہ رکن ممالک کو پہلے تنظیمی ڈھانچے اور باہمی دفاعی تعاون کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مختلف سطحوں پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اتحاد کے طریقہ کار، ادارہ جاتی ڈھانچے اور تعاون کے عملی پہلوؤں کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق مستقبل میں ایسا مرحلہ آ سکتا ہے جب اتحاد ان ممالک کے لیے کھلا ہو جو اس کے بنیادی مقاصد اور علاقائی سلامتی سے متعلق مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہوں، لیکن اس وقت کسی نئے رکن کی شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس وضاحت سے حکومت نے فوری توسیع سے متعلق قیاس آرائیوں اور موجودہ اتحاد کے دفاعی کردار کے درمیان فرق واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔
مکہ دفاعی اتحاد کی اہمیت حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں بڑھ گئی ہے، خصوصاً خلیجی خطے اور بحیرہ احمر میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم دفتر خارجہ نے اتحاد کو جارحانہ فوجی بلاک کے بجائے دفاعی اور بازدارانہ تعاون کے فریم ورک کے طور پر بیان کیا ہے۔
اتحاد کی عملی ذمہ داریوں، مشترکہ کمانڈ، ممکنہ فوجی ردعمل اور دیگر ادارہ جاتی تفصیلات کے بارے میں مکمل قواعد ابھی عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔ اس لیے موجودہ سرکاری پوزیشن یہی ہے کہ تینوں ممالک پہلے باہمی تعاون کو مضبوط کریں گے اور کسی ممکنہ توسیع پر بعد میں غور کیا جا سکتا ہے۔ مستقبل کے فیصلوں کا انحصار رکن ممالک کی باہمی مشاورت اور علاقائی حالات پر ہوگا۔




