راولپنڈی: پاکستان کے سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل ریٹائرڈ عبدالوحید کاکڑ پیر کو راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے سابق آرمی چیف کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فوجی قیادت نے جنرل ریٹائرڈ عبدالوحید کاکڑ کے نمایاں عسکری کیریئر، قیادت اور پاک فوج کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ بیان میں سوگوار خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے مرحوم کے لیے مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر کی دعا کی گئی۔

صدر آصف علی زرداری نے بھی سابق آرمی چیف کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کے خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں جنرل ریٹائرڈ کاکڑ کی پاکستان کی مسلح افواج کے لیے خدمات کو سراہا۔ مختلف سیاسی رہنماؤں نے بھی ان کے انتقال پر تعزیتی بیانات جاری کیے۔

عبدالوحید کاکڑ نے جنوری 1993 سے جنوری 1996 تک پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا دور ملک کی سیاسی تاریخ کے ایک اہم مرحلے سے گزرا، جب 1993 میں صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان شدید سیاسی بحران کے بعد دونوں عہدوں میں تبدیلی آئی اور بعد میں عام انتخابات ہوئے۔ جنرل کاکڑ اپنی مقررہ مدت مکمل کرنے کے بعد فوجی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

دستیاب سرکاری بیانات میں ان کے انتقال کی وجہ کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے خبر کی تصدیق صرف انتقال، مقام، عمر اور قومی و عسکری قیادت کے تعزیتی ردعمل تک محدود ہے۔ آئی ایس پی آر نے ان کی پیشہ ورانہ خدمات اور قیادت کو خاص طور پر یاد کیا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ عبدالوحید کاکڑ کا انتقال پاکستان کی عسکری تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت کے باب کا اختتام ہے۔ ان کے دورِ قیادت کا ذکر خصوصاً 1990 کی دہائی کے سیاسی اور ادارہ جاتی حالات کے تناظر میں کیا جاتا ہے، جبکہ فوجی قیادت نے اپنے تازہ بیان میں ان کی خدمات کو پاک فوج کے لیے قابل قدر قرار دیا ہے۔