لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی بہنوں کی رہائی سے متعلق درخواست نمٹا دی ہے، جب پنجاب حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کی نظر بندی کی مدت میں پہلے ہی توسیع کی جا چکی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے ہوم سیکرٹری کی جانب سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ نظر بندی میں توسیع کا حکم 7 اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا۔
درخواست میں عمران خان کی بہنوں کی حراست کو چیلنج کرتے ہوئے رہائی کی استدعا کی گئی تھی۔ تاہم حکومت کی جانب سے نئے توسیعی حکم کی موجودگی سامنے آنے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ موجودہ درخواست میں زیر بحث سابق حکم اپنی عملی مدت کے اعتبار سے تبدیل ہو چکا ہے۔ اس بنیاد پر درخواست نمٹا دی گئی، جبکہ متاثرہ فریق کے لیے تازہ نظر بندی کے حکم کو مناسب قانونی فورم پر الگ سے چیلنج کرنے کا راستہ موجود ہے۔
عدالتی کارروائی میں حکومت نے نظر بندی کی قانونی بنیاد اور اس کی مدت سے متعلق دستاویزی رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے اس مرحلے پر نظر بندی کے نئے حکم کی میرٹ پر حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں دیا، کیونکہ زیر سماعت درخواست پہلے حکم کے خلاف تھی۔ اس لیے مقدمہ نمٹائے جانے کو نئی نظر بندی کی عدالتی توثیق یا اسے غیر قانونی قرار دینے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
عمران خان کی بہنیں حالیہ سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی معاملات کے دوران حراست میں لی گئی تھیں۔ ان کے وکلا اور پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں نے حراست کو سیاسی نوعیت کا اقدام قرار دیا ہے، جبکہ صوبائی انتظامیہ اپنے احکامات کو امن و امان اور متعلقہ قانونی اختیارات کے تحت جاری کردہ اقدامات کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ یہ دونوں فریقوں کے مؤقف ہیں اور تازہ عدالتی کارروائی نے ان وسیع سیاسی دعوؤں پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا۔
نظر بندی کے مقدمات میں عدالتیں عموماً انتظامی حکم کی قانونی بنیاد، وجوہات، مدت اور بنیادی حقوق سے مطابقت کا جائزہ لیتی ہیں۔ اس کیس میں تازہ توسیعی حکم 7 اکتوبر سے متعلق بتایا گیا ہے، جس کے خلاف الگ درخواست دائر ہونے کی صورت میں عدالت اس حکم کے مخصوص قانونی جواز کا جائزہ لے سکتی ہے۔
موجودہ کارروائی کا فوری نتیجہ یہ ہے کہ رہائی کے لیے دائر سابق درخواست نمٹا دی گئی ہے اور زیر حراست خواتین کی رہائی کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔ آئندہ قانونی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ نئی نظر بندی کے حکم کو عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے یا صوبائی حکومت اس حوالے سے کوئی نیا انتظامی فیصلہ کرتی ہے۔

