لاہور: پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے صوبے میں جرائم کے تقابلی اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے مجموعی جرائم میں 63 فیصد کمی کا دعویٰ کیا ہے۔ محکمہ کے مطابق ستمبر کے مختلف تقابلی ادوار میں ڈکیتی، راہزنی، موٹر سائیکل چھیننے اور چوری سمیت متعدد جرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد سی سی ڈی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور دستیاب رپورٹ میں ان کی کسی آزاد ادارے سے الگ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
ڈان کے مطابق اعداد و شمار سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کی زیر صدارت اجلاس میں پیش کیے گئے۔ محکمہ کے ترجمان نے بتایا کہ لاہور ریجن میں مجموعی جرائم کی شرح میں 78 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی، جو صوبے کے مختلف ریجنز میں سب سے زیادہ بتائی گئی۔ فیصل آباد میں 68 فیصد اور ساہیوال میں 66 فیصد کمی کا دعویٰ کیا گیا۔
سی سی ڈی کے مطابق ملتان ریجن میں جرائم میں 59 فیصد، گوجرانوالہ اور بہاولپور میں 58، شیخوپورہ میں 57، سرگودھا میں 56، راولپنڈی میں 52 اور ڈیرہ غازی خان ریجن میں 43 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ شرحیں محکمانہ تقابلی ڈیٹا پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں پولیس یا سی سی ڈی کی رپورٹ کردہ کارکردگی کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ صوبائی نتیجہ۔
جرائم کی اقسام کے لحاظ سے محکمہ نے گھروں میں ڈکیتی کے واقعات میں 81 فیصد کمی کا دعویٰ کیا۔ ہائی وے ڈکیتی میں 72 فیصد، عمومی راہزنی میں 71 فیصد، موٹر سائیکل چھیننے میں 67 فیصد اور موٹر سائیکل چوری میں 56 فیصد تک کمی بتائی گئی ہے۔ ترجمان نے ان نتائج کو جرائم پیشہ عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں اور محکمانہ حکمت عملی سے جوڑا۔
جرائم کے اعداد کا تقابلی جائزہ لیتے وقت مقدمات کے اندراج، رپورٹنگ کے طریقہ کار، آبادی، پولیس حدود اور ڈیٹا کی درجہ بندی جیسے عوامل بھی اہم ہوتے ہیں۔ دستیاب خبر میں مکمل خام ڈیٹا، ہر جرم کے اصل کیس نمبرز یا آزاد آڈٹ کی تفصیل موجود نہیں، اس لیے فیصدی کمی کے دعووں کی تشریح اسی سرکاری سیاق میں کی جانی چاہیے۔
سی سی ڈی پنجاب میں سنگین اور منظم جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے فعال ادارہ ہے۔ محکمہ کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد اس کی کارکردگی کا سرکاری جائزہ پیش کرتے ہیں، جبکہ طویل مدتی رجحان کا زیادہ جامع تعین مسلسل ادوار کے یکساں طریقہ کار سے جمع شدہ ڈیٹا اور دیگر پولیس و عدالتی اشاریوں کے ساتھ موازنہ سے ممکن ہوگا۔

