اسلام آباد: پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے افغانستان میں پاکستانی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کے دوران شہری ہلاکتوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی کارروائیوں میں تحمل کا مظاہرہ کیا گیا اور ان کا دائرہ درپیش خطرے کے تناسب سے رکھا گیا۔
افغان وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے حالیہ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ 2021 کے اواخر سے افغانستان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 1,119 افغان شہری ہلاک یا زخمی ہوئے۔ یہ افغان طالبان حکومت کا دعویٰ ہے جسے پاکستان نے تسلیم نہیں کیا۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ شہری نقصانات سے متعلق الزامات کے حق میں قابل تصدیق شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ افغان سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور ان سے وابستہ گروہوں سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کو پناہ حاصل ہے اور یہ گروہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ کابل کی حکومت ماضی میں پاکستان کے ایسے الزامات سے اختلاف کرتی رہی ہے، اس لیے دونوں ممالک کے مؤقف کو الگ الگ دعووں کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق رواں سال افغان سرزمین سے منسلک حملوں میں پاکستان میں 3,500 سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ پاکستانی بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے مسلسل حملوں کے سامنے کوئی ذمہ دار ریاست غیر فعال نہیں رہ سکتی اور پاکستان نے اپنی کارروائیاں دفاعِ خود اختیاری، ضرورت اور آخری حل کے اصولوں کے تحت کیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی کارروائیوں کا ہدف صرف دہشت گرد اور افغانستان میں ان کے لاجسٹک سپورٹ مراکز تھے اور کارروائیوں میں امتیاز اور احتیاط کے اصولوں کی پابندی کی گئی۔ دفتر خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے افغان طالبان حکومت کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے جواب دہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے پر مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس نے کابل سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود ٹی ٹی پی سمیت پاکستان مخالف گروہوں کے ٹھکانے ختم کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت جاری ایک مانیٹرنگ رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور طالبان کے ساتھ تعلقات پر تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ موجودہ بیان دونوں ممالک کے درمیان شہری نقصانات اور انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے متعلق متضاد دعووں کی تازہ کڑی ہے، اور دستیاب معلومات میں افغان دعووں یا پاکستانی تردید کا کوئی مشترکہ آزادانہ حتمی تعین سامنے نہیں آیا۔

