مظفرآباد/مری: آزاد جموں و کشمیر اور پنجاب کے پہاڑی علاقوں میں دو الگ ٹریفک حادثات کے نتیجے میں مجموعی طور پر 14 افراد جاں بحق اور سات زخمی ہو گئے۔ دونوں واقعات میں مسافر گاڑیاں پہاڑی راستوں سے نیچے گہری کھائیوں میں جا گریں، جس کے بعد مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے کارروائیاں کیں۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق مظفرآباد کے قریب ایک مسافر جیپ پہاڑی سڑک سے پھسل کر نیچے جا گری۔ اس حادثے میں سات افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک والد اور اس کے دو بیٹے بھی شامل تھے۔ دشوار گزار مقام کے باعث امدادی کارروائی میں مشکلات پیش آئیں اور زخمیوں کو قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔

دوسرا حادثہ مری کے قریب پیش آیا جہاں ایک وین گہری کھائی میں جا گری۔ رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں دو خواتین اور پانچ بچیوں سمیت سات افراد جان سے گئے۔ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں ریسکیو ٹیموں نے جائے حادثہ سے نکال کر ہسپتال پہنچایا۔ حادثے کے بعد پولیس اور مقامی انتظامیہ نے ابتدائی معلومات جمع کیں۔

دونوں حادثات کی حتمی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر مکمل تفتیشی نتائج سامنے نہیں آئے۔ پہاڑی علاقوں میں تنگ سڑکیں، خطرناک موڑ، ڈھلوان، موسم، گاڑیوں کی تکنیکی حالت اور ڈرائیونگ کے عوامل حادثات کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم ان مخصوص واقعات میں کسی ایک وجہ کو سرکاری تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔

آزاد کشمیر اور مری سمیت شمالی پہاڑی علاقوں میں سڑک حادثات اکثر امدادی اداروں کے لیے بھی بڑا چیلنج بن جاتے ہیں کیونکہ گاڑی کے گہری کھائی میں گرنے کی صورت میں متاثرین تک پہنچنے اور انہیں اوپر لانے کے لیے اضافی وقت اور خصوصی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ مقامی آبادی بھی ایسے واقعات میں ابتدائی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے۔

تازہ واقعات نے ایک بار پھر پہاڑی سڑکوں پر مسافر گاڑیوں کی حفاظت، سڑکوں کی مرمت، حفاظتی رکاوٹوں، گاڑیوں کی فٹنس اور ڈرائیوروں کی احتیاط کی اہمیت اجاگر کی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں دونوں حادثات کے جانی نقصانات کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ ذمہ داری یا کسی ممکنہ انتظامی غفلت کا حتمی تعین متعلقہ پولیس اور انتظامی تحقیقات کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔