لاہور: پنجاب کی متعدد سرکاری جامعات بڑھتے ہوئے انتظامی اخراجات، تنخواہوں اور پنشن کی ذمہ داریوں اور محدود مالی وسائل کے باعث دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، جس سے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی مالی پائیداری ایک اہم پالیسی مسئلہ بن گئی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق جامعات کے مالی معاملات میں پنشن ادائیگیاں خاص طور پر نمایاں بوجھ بنتی جا رہی ہیں اور کئی اداروں کے لیے موجودہ آمدن سے تمام مستقل اخراجات پورے کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

سرکاری جامعات کی آمدن عمومی طور پر حکومتی گرانٹس، طلبہ کی فیس، تحقیقی منصوبوں اور محدود داخلی وسائل پر منحصر ہوتی ہے۔ دوسری جانب ملازمین کی تنخواہوں، پنشن، یوٹیلیٹی بلز، تدریسی سرگرمیوں، لیبارٹریوں اور بنیادی ڈھانچے کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس فرق نے متعدد اداروں کے بجٹ پر دباؤ بڑھایا ہے اور انتظامیہ کو اخراجات اور آمدن کے نئے ذرائع کا جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جامعات کے حکام نے اس امر پر زور دیا ہے کہ پنشن کے پرانے نظام کے تحت جمع ہونے والی طویل مدتی ذمہ داریوں کے لیے مستقل مالی انتظام ضروری ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین کو ادائیگیاں قانونی اور انتظامی ذمہ داری ہیں، اس لیے جامعات انہیں مؤخر کرکے مالی مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں کر سکتیں۔ اسی وجہ سے پنشن فنڈز اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے الگ اور پائیدار طریقہ کار پر بحث اہم ہو گئی ہے۔

جامعات کی مالی مشکلات کا براہ راست اثر صرف انتظامی امور تک محدود نہیں رہتا۔ اگر دستیاب وسائل کا بڑا حصہ مستقل اخراجات پر خرچ ہو تو تحقیق، نئی لیبارٹریوں، لائبریری وسائل، طلبہ سہولیات اور تدریسی معیار بہتر بنانے کے لیے رقم محدود ہو سکتی ہے۔ اسی لیے اعلیٰ تعلیم کے ماہرین مالی اصلاحات کو تعلیمی معیار کے مسئلے سے بھی جوڑتے ہیں۔

صوبائی سطح پر اس مسئلے کا ممکنہ حل محض فیسوں میں اضافہ نہیں سمجھا جا رہا، کیونکہ سرکاری جامعات میں بڑی تعداد ایسے طلبہ کی ہوتی ہے جن کے لیے فیس میں نمایاں اضافہ تعلیم تک رسائی محدود کر سکتا ہے۔ اس کے بجائے حکومتی گرانٹس کے مؤثر استعمال، اپنے وسائل سے آمدن بڑھانے، اخراجات کی نگرانی، پنشن ذمہ داریوں کے بہتر انتظام اور طویل مدتی مالی منصوبہ بندی جیسے اقدامات زیر بحث ہیں۔

موجودہ صورتحال کو کسی ایک جامعہ کے دیوالیہ ہونے یا تعلیمی سرگرمیاں بند ہونے کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ دستیاب رپورٹ بنیادی طور پر صوبے کی سرکاری جامعات پر بڑھتے مالی دباؤ اور ساختی مسائل کی نشاندہی کرتی ہے۔ آئندہ حکومتی فنڈنگ، جامعات کے بجٹ فیصلے اور پنشن کے لیے اختیار کیا جانے والا نظام طے کرے گا کہ ادارے اپنے مالی توازن اور تعلیمی ذمہ داریوں کو کس حد تک برقرار رکھ پاتے ہیں۔