اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سندھ حکومت اور ایک نجی جائیداد مالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کرایہ داری اور ملکیت کے تنازع میں سندھ ہائیکورٹ کا دسمبر 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے معاملہ تازہ فیصلے کے لیے واپس ہائیکورٹ کو بھیج دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سندھ حکومت کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا کہ متنازع جائیداد پر اس کا اپنا حق یا ملکیت تھی، جبکہ ماضی میں وہ سابق مالک کو باقاعدگی سے کرایہ ادا کرتی رہی تھی۔
ڈان کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے رشیدہ بیگم کی درخواست پر فیصلہ دیا۔ بینچ میں جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس عقیل احمد عباسی بھی شامل تھے۔ درخواست گزار نے ایک ہزار مربع گز کی جائیداد بشریٰ راحت سے دو رجسٹرڈ سیل ڈیڈز کے ذریعے مارچ 2011 میں خریدی تھی۔ اس وقت سندھ حکومت پہلے ہی اس پراپرٹی کی کرایہ دار تھی اور سابق مالک کو ماہانہ 50 ہزار روپے ادا کر رہی تھی۔
نئی مالک نے سندھ رینٹڈ پریمسز آرڈیننس 1979 کی دفعہ 18 کے تحت حکومت کو ملکیت کی تبدیلی سے آگاہ کیا۔ بعد میں معاملہ متعدد عدالتی مراحل سے گزرا، جن میں بے دخلی کی کارروائیاں، فرسٹ رینٹ اپیلیں اور آئینی درخواستیں شامل تھیں۔ سندھ حکومت نے بعد کے مرحلے میں رینٹ کنٹرولر کے دائرہ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جائیداد حکومت نے ریکوزیشن کی تھی اور اصل خریدار کے حق میں 1974 کی نیلامی منسوخ ہو گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ حکومت اس سے پہلے سابق مالک کی ملکیت تسلیم کرتی رہی تھی۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ اگر سندھ حکومت کا واقعی جائیداد پر کوئی قانونی حق یا ملکیت تھی تو اس نے طویل عرصے تک اسے باضابطہ طور پر کیوں نہیں اٹھایا۔ فیصلے کے مطابق صرف زبانی طور پر یہ کہنا کہ کئی دہائیاں پہلے نیلامی منسوخ ہو گئی تھی، کرایہ دار اور مالک کے قائم تعلق کو خود بخود ختم کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ بے دخلی کی کارروائی بنیادی طور پر ملکیت کے پیچیدہ تنازع کا حتمی فیصلہ کرنے کا فورم نہیں ہوتی۔ تاہم اگر حکومت کے پاس نیلامی کی منسوخی یا اپنے حق کے متعلق کوئی پرانا نوٹیفکیشن یا مستند دستاویز موجود تھی تو اسے مناسب مرحلے پر رینٹ کنٹرولر کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تھا۔ فیصلے میں متضاد قانونی مؤقف اختیار کرنے کے اصول پر بھی تنقیدی نظر ڈالی گئی۔
سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا 5 دسمبر 2023 کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے معاملہ نئے سرے سے آزادانہ قانونی جائزے کے لیے واپس بھیج دیا اور ترجیحی طور پر چھ ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ یہ حکم نجی درخواست گزار کو فوری طور پر حتمی ملکیت دینے یا سندھ حکومت کے ممکنہ تمام دعووں کو مستقل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ نہیں ہے؛ اب ہائیکورٹ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں مقدمے کا دوبارہ جائزہ لے گی۔

