اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے کہا ہے کہ اس نے چار چینی شہریوں کو بنگیال کے علاقے میں واقع ایک ڈیری فارم سے بازیاب کر لیا ہے، جہاں انہیں مبینہ طور پر تاوان کے لیے رکھا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق بازیاب افراد محفوظ حالت میں ملے، جبکہ کارروائی کے مختلف مراحل میں چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ زیرِ تفتیش مقدمے میں کسی ملزم کا جرم عدالت سے ابھی ثابت نہیں ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کا سراغ ایک ایسے شخص سے پوچھ گچھ کے دوران ملا جو شالیمار تھانے میں درج ایک علیحدہ ڈکیتی یا راہزنی کے مقدمے میں گرفتار تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس شخص نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ چار چینی شہریوں کو سیکٹر ایف-10/4 سے اغوا کیا اور انہیں بنگیال کے ڈیری فارم منتقل کیا، جہاں ان کی رہائی کے بدلے رقم کے بارے میں بات چیت جاری تھی۔ یہ تمام تفصیل پولیس کے تفتیشی بیان پر مبنی ہے۔
پولیس کے مطابق گرفتار شخص نے چھاپہ مار ٹیم کو فارم تک پہنچنے میں مدد دینے کی پیشکش کی۔ کارروائی کے دوران فارم پر تعینات ایک مسلح شخص نے مبینہ طور پر پولیس پر فائرنگ کی، جس کے جواب میں پولیس نے بھی فائرنگ کی۔ پولیس نے کہا کہ دو افراد کو موقع سے قابو کیا گیا اور ملحقہ کمرے سے چاروں چینی شہری ملے۔ دستیاب اطلاعات میں کسی پولیس اہلکار، شہری یا بازیاب شخص کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
حکام نے مزید دعویٰ کیا کہ بعد کی کارروائیوں میں چار مزید مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد ہوا۔ پولیس کے مطابق گروہ کا مبینہ سرغنہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ برآمد شدہ اسلحے، ملزمان کے باہمی تعلق اور اغوا میں ہر فرد کے مبینہ کردار کی قانونی حیثیت تفتیش، فرانزک جانچ اور عدالتی کارروائی سے طے ہوگی۔
واقعے کی رپورٹنگ میں بازیابی اور پولیس کے دعووں کے درمیان فرق اہم ہے۔ چار شہریوں کا پولیس کارروائی کے بعد ملنا ایک رپورٹ شدہ نتیجہ ہے، لیکن اغوا کی منصوبہ بندی، تاوان کی طلب، فائرنگ اور گرفتار افراد کی ذمہ داری ابھی پولیس کی تفتیش کا حصہ ہیں۔ ملزمان کو قانون کے تحت صفائی اور منصفانہ مقدمے کا حق حاصل ہے۔
پولیس نے بازیاب افراد کی شناخت، پاکستان میں ان کی مصروفیت، مبینہ تاوان کی رقم یا اغوا کی درست مدت عوامی طور پر جاری نہیں کی۔ متاثرین کی سلامتی اور نجی زندگی کے پیش نظر ان غیر مصدقہ تفصیلات کو رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ واقعے سے متعلق الگ اغوا مقدمہ کس تاریخ اور کن دفعات کے تحت درج ہوا۔
چینی شہریوں کی حفاظت پاکستان میں ایک حساس سکیورٹی معاملہ ہے، تاہم اس واقعے کو کسی وسیع تر تنظیم، دہشت گردی یا بین الاقوامی نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے دستیاب ذرائع میں کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اس مرحلے پر خبر کو اسلام آباد پولیس کی ایک مجرمانہ تفتیش اور بازیابی کی کارروائی تک محدود رکھنا درست ہے۔




