اسلام آباد پولیس نے دارالحکومت کے سیکٹر ایف 10/4 سے مبینہ طور پر تاوان کے لیے اغوا کیے گئے چار چینی شہریوں کو بنگیال کے علاقے میں ایک ڈیری فارم سے بازیاب کرالیا ہے۔ ڈان کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق کارروائی ایک ایسے مشتبہ شخص کی تفتیش کے بعد کی گئی جو شالیمار پولیس اسٹیشن میں درج ایک دوسرے مقدمے کے سلسلے میں پہلے سے پولیس کی حراست میں تھا۔ اغوا، تاوان اور گرفتار افراد کے کردار سے متعلق تفصیلات پولیس کے بیان پر مبنی الزامات ہیں اور ان کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی میں ہوگا۔
پولیس کے مطابق زیر حراست شخص نے دوران تفتیش بتایا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ چاروں چینی شہریوں کو ایف 10/4 سے اغوا کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغویوں کو بعد میں بنگیال منتقل کرکے ایک ڈیری فارم میں رکھا گیا، جہاں ان کی رہائی کے بدلے تاوان سے متعلق بات چیت جاری تھی۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اغوا کب ہوا، کتنی رقم مانگی گئی، متاثرہ افراد پاکستان میں کس نوعیت کے کام سے وابستہ تھے یا ان کے خاندانوں سے کس ذریعے سے رابطہ کیا گیا۔
ابتدائی مشتبہ شخص نے پولیس کو مبینہ ٹھکانے تک پہنچانے میں تعاون کی پیشکش کی، جس کے بعد ڈکیتی اور راہزنی سے متعلق یونٹ سمیت پولیس ٹیم تشکیل دی گئی۔ پولیس نے فارم کے گرد گھیرا ڈالا تو اندر موجود افراد میں سے ایک نے مبینہ طور پر اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ حکام کے مطابق پولیس نے جوابی فائرنگ کی اور کارروائی کے دوران دو افراد کو قابو کیا جو مغویوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ کسی پولیس اہلکار، شہری یا ملزم کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی۔
پولیس ٹیم نے فارم کے ایک ملحقہ کمرے میں بند چاروں چینی شہریوں کو تلاش کرکے محفوظ تحویل میں لے لیا۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی کے اگلے مرحلے میں چار مزید مبینہ اغوا کار گرفتار کیے گئے اور ان کے قبضے سے ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ تاہم گروہ کا مبینہ سرغنہ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پہلے سے حراست میں موجود شخص اور چھاپے کے دوران پکڑے گئے افراد کی مجموعی قانونی حیثیت، مقدمات اور جسمانی ریمانڈ کی تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
چاروں بازیاب افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ خبر میں ان کے طبی معائنے، بیان ریکارڈ ہونے، سفارتی حکام سے رابطے یا کسی تاوان کی ادائیگی کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ ان پہلوؤں پر قیاس کے بجائے پولیس کی آئندہ باضابطہ بریفنگ یا عدالتی ریکارڈ کا انتظار ضروری ہے۔
چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت پاکستان کے لیے سفارتی اور داخلی سلامتی کا اہم معاملہ رہی ہے۔ تاہم اس مخصوص واقعے کو کسی دہشت گرد تنظیم یا غیر ملکی گروہ سے جوڑنے کا کوئی دعویٰ دستیاب رپورٹ میں نہیں کیا گیا؛ پولیس نے اسے اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ گروہ کی کارروائی کے طور پر بیان کیا ہے۔ تفتیش میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ملزمان کسی دوسرے واقعے میں ملوث تھے یا نہیں، مگر اس مرحلے پر ایسے کسی تعلق کی تصدیق موجود نہیں۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ پولیس نے چار چینی شہریوں کی بازیابی، بنگیال کے ڈیری فارم پر چھاپے، متعدد گرفتاریوں، ہتھیاروں کی برآمدگی اور ایک مبینہ سرغنہ کے فرار ہونے کی اطلاع دی ہے۔ گرفتار افراد جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے گناہ تصور ہوں گے، جبکہ اغوا کے محرک، تاوان کی تفصیل اور ہر ملزم کے انفرادی کردار کا حتمی فیصلہ تفتیش اور عدالت کرے گی۔




