اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کی جدید کاری کے 12 ارب روپے کے منصوبے پر عملی تعمیراتی کام شروع ہونے کی تصدیق کی ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے مطابق منصوبے کا مقصد روایتی شپ بریکنگ سرگرمیوں کو زیادہ محفوظ، منظم اور ماحول دوست شپ ری سائیکلنگ صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔

وزارت کے سرکاری بیان کے مطابق منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ ایک اسٹیئرنگ کمیٹی اجلاس میں لیا گیا۔ وزیر بحری امور نے بتایا کہ اہم سہولیات پر فزیکل تعمیر جاری ہے، جن میں 30 بستروں کا ہسپتال، مزدوروں کے لیے رہائشی کالونی، ایک اسکول اور شمسی توانائی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں۔ ان سہولیات کا تعلق صرف صنعتی پیداوار سے نہیں بلکہ یارڈ میں کام کرنے والے افراد کی صحت، رہائش اور بنیادی خدمات سے بھی ہے۔

گڈانی طویل عرصے سے پاکستان میں پرانے بحری جہاز توڑنے اور فولادی اسکریپ کی فراہمی کا اہم مرکز رہا ہے۔ اس شعبے میں بھاری مشینری، دھاتی ڈھانچوں، ممکنہ خطرناک مواد اور ساحلی ماحول سے متعلق حفاظتی تقاضے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ سرکاری منصوبہ اسی تناظر میں بنیادی ڈھانچے اور کام کے طریقہ کار کو بین الاقوامی حفاظت اور ماحولیات کے معیار کے قریب لانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

محمد جنید انور چوہدری نے اجلاس میں کہا کہ حکومت گڈانی کی روایتی شپ بریکنگ سرگرمیوں کو جدید اور ذمہ دار شپ ری سائیکلنگ صنعت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ وزارت کے مطابق یارڈ ملکی اسٹیل اسکریپ مارکیٹ اور متعلقہ سپلائی چین میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے جدید کاری سے صنعتی سرگرمی کے ساتھ مزدوروں کے تحفظ اور ماحولیاتی انتظام کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

منصوبے کی اعلان شدہ مالیت 12 ارب روپے ہے، تاہم کسی بھی بڑے سرکاری انفراسٹرکچر منصوبے کی حتمی کامیابی تعمیراتی معیار، مقررہ مدت میں تکمیل، حفاظتی ضابطوں کے نفاذ اور مستقل نگرانی سے مشروط ہوگی۔ موجودہ مرحلے پر سرکاری طور پر تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ اہم سہولیات پر تعمیر شروع ہو چکی ہے۔ آئندہ مراحل میں کام کی رفتار، مالی پیش رفت اور عملی حفاظتی نظام کے نفاذ کے بارے میں مزید سرکاری معلومات منصوبے کی حقیقی پیش رفت جانچنے کے لیے اہم ہوں گی۔