غزہ سٹی: غزہ سٹی میں بے گھر فلسطینی خاندانوں کی رہائش کے لیے استعمال ہونے والی ایک عمارت منہدم ہونے سے کم از کم 19 افراد جاں بحق اور 25 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ امدادی کارکن ملبے میں مزید افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عمارت میں چھ بے گھر فلسطینی خاندان مقیم تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ عمارت جاری جنگ کے دوران پہلے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں جزوی طور پر متاثر ہو چکی تھی۔ حکام نے فوری طور پر عمارت گرنے کی حتمی وجہ کی تصدیق نہیں کی، اس لیے یہ واضح نہیں کہ انہدام براہ راست سابقہ نقصان، ساختی کمزوری یا کسی اور فوری سبب سے ہوا۔
غزہ میں طویل جنگ کے باعث بڑی تعداد میں رہائشی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئی ہیں۔ محفوظ رہائش کی شدید کمی کے باعث بہت سے بے گھر خاندان ایسی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں جو پہلے حملوں سے متاثر ہو چکی ہیں اور جن کی ساختی سلامتی کا مکمل جائزہ لینا مشکل ہے۔ اس صورتحال میں عمارتوں کے اچانک گرنے کے واقعات ایک اضافی انسانی خطرہ بن گئے ہیں۔
امدادی ٹیموں نے جائے حادثہ پر ملبہ ہٹانے اور زخمیوں کو طبی مراکز منتقل کرنے کا کام شروع کیا۔ محدود وسائل، تباہ شدہ سڑکیں اور مسلسل انسانی بحران غزہ میں ریسکیو کارروائیوں کو پیچیدہ بناتے رہے ہیں۔ مقامی طبی نظام بھی طویل عرصے سے زخمیوں کی بڑی تعداد، ادویات اور آلات کی کمی اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے دباؤ میں ہے۔
حکام نے ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد کم از کم 19 بتائی ہے، تاہم تلاش جاری ہونے کے باعث اعداد و شمار میں تبدیلی ممکن ہے۔ واقعے کی حتمی وجہ کے بارے میں کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید شواہد اور مقامی جائزے درکار ہوں گے۔
یہ حادثہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب غزہ میں جنگ سے بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے محفوظ پناہ گاہوں کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ امدادی اداروں کے لیے فوری ترجیح زخمیوں کی دیکھ بھال، لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں کو متبادل محفوظ رہائش فراہم کرنا ہے۔

