برلن: جرمنی کی حکومت نے آٹھ اکتوبر کو ملک میں 2026 اور 2027 کی معاشی ترقی کے سرکاری تخمینوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت اقتصادیات کے مطابق توقع ہے کہ رواں سال معیشت 1.3 فیصد بڑھے گی، جبکہ آئندہ سال ترقی کی شرح 1.1 فیصد رہے گی۔ یہ تخمینے اپریل میں جاری کیے گئے بالترتیب 0.5 فیصد اور 0.9 فیصد کے اندازوں سے بلند ہیں۔ یہ پیش گوئیاں ہیں، حتمی حاصل شدہ شرح نمو نہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت نے پیش گوئی میں بہتری کی ایک وجہ یہ بتائی کہ ایران سے متعلق جنگ اور امریکی محصولات نے جرمن معیشت کو ابتدائی خدشات کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود بین الاقوامی کشیدگی، توانائی کی مہنگائی اور کاروباری لاگت اہم مسائل ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں جرمنی کی معیشت میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

جرمن وزیر اقتصادیات کیتھرینا رائشے نے نئی پیش گوئیوں کے اعلان کے موقع پر کہا کہ معیشت کے بڑھنے کا اشارہ اہم ضرور ہے مگر ابتدائی بہتری کو مستقل معاشی رفتار میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انہوں نے اصلاحات جاری رکھنے پر زور دیا تاکہ حکومتی اخراجات سے ملنے والی عارضی مدد کے بجائے ترقی پائیدار بنیادوں پر قائم ہو سکے۔

حکومت کے مطابق بنیادی ڈھانچے اور دفاعی شعبے میں قرض کے ذریعے کی جانے والی سرکاری سرمایہ کاری موجودہ بحالی کی نمایاں قوت ہے۔ برآمدات کو بھی ترقی میں معاون تصور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کو رواں سال برآمدات میں 3.7 فیصد اضافہ متوقع ہے، تاہم اس کی پیش گوئی کے مطابق 2027 میں یہ شرح 2.1 فیصد اور 2028 میں 1.1 فیصد رہ سکتی ہے۔ اسی سال، یعنی 2028 میں، مجموعی معاشی ترقی 0.6 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔

مہنگائی کے حوالے سے تصویر زیادہ پیچیدہ ہے۔ حکومتی تخمینوں میں 2026 کے لیے صارف قیمتوں میں اضافہ 2.7 فیصد اور 2027 کے لیے 3 فیصد بتایا گیا ہے، جبکہ 2028 میں اس کے 2.2 فیصد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ ستمبر میں جرمن مہنگائی 3.3 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ ایندھن کی بلند قیمتوں سے صارفین کو ریلیف دینے کے لیے وفاقی حکومت نے اکتوبر سے دسمبر کے اختتام تک پیٹرول اور ڈیزل پر فی لیٹر 0.17 یورو کی ٹیکس کمی کا اقدام کیا ہے۔

وزارت نے واضح کیا کہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات کا مستقبل معاشی امکانات پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر کشیدگی میں پائیدار کمی آتی ہے تو ترقی کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ مسلسل مہنگائی گھرانوں اور کمپنیوں پر اضافی بوجھ ڈال سکتی ہے۔ اس طرح بہتر سرکاری تخمینوں کے باوجود غیر یقینی صورت حال ختم نہیں ہوئی۔