اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم میں گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (GIDC) کے قانون میں مجوزہ ترمیم پر بحث کے دوران حکام نے خبردار کیا ہے کہ کھاد کی صنعت کے لیے نئی پائپ لائنوں کی لاگت اگر سیس کے ذریعے صارفین تک منتقل کی گئی تو کھاد کی ایک بوری کی قیمت میں 700 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ رقم ایک ممکنہ تخمینہ ہے؛ نہ قیمت میں اضافہ نافذ ہوا ہے اور نہ متعلقہ ترمیمی بل منظور کیا گیا ہے۔

کمیٹی کا اجلاس سید مصطفیٰ محمود کی صدارت میں ہوا، جس میں نیچرل گیس ڈویلپمنٹ سرچارج ترمیمی بل اور گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس ترمیمی بل زیرِ غور آئے۔ وزارت پٹرولیم کے حکام نے بتایا کہ مجوزہ قانون سازی کا مقصد جمع شدہ سیس کو گیس شعبے کے زیادہ وسیع بنیادی ڈھانچے پر خرچ کرنے کی اجازت دینا ہے۔ موجودہ قانونی تصور میں یہ رقم بالخصوص ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت پائپ لائن اور ایران-پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبوں کے لیے مختص رہی ہے۔

حکام کے مطابق GIDC کی مد میں تقریباً 294 ارب روپے جمع کیے گئے تھے اور سپریم کورٹ کے ایک حکم کی روشنی میں رقم کو مقررہ مدت، جسے اجلاس میں چھ ماہ بتایا گیا، کے اندر متعلقہ مقاصد پر خرچ کیا جانا تھا۔ مجوزہ ترمیم منظور ہوتی تو اس دائرے کو بڑھا کر گیس شعبے کے دوسرے بنیادی ڈھانچے کو بھی شامل کیا جا سکتا تھا۔ تاہم کمیٹی نے اس مرحلے پر دونوں بلوں کو مؤخر کر دیا، اس لیے فنڈ کے استعمال کا نیا قانونی دائرہ ابھی نافذ نہیں ہوا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو ماری گیس فیلڈ سے ایندھن فراہم کیا جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے تقریباً 500 ملین ڈالر لاگت کی نئی پائپ لائنیں بچھائی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر یہ لاگت کھاد پر عائد سیس کے ذریعے وصول کی گئی تو فی بوری قیمت میں زیادہ سے زیادہ 700 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اصل اضافہ، اگر کبھی نافذ ہوا، قانون، لاگت کے حتمی تعین اور قیمت منتقل کرنے کے طریقۂ کار پر منحصر ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مالی بوجھ بالآخر کسانوں اور عوام پر پڑے گا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اس فیصلے کا حوالہ دیا کہ وہ فی الحال قانون سازی کی حمایت یا پارلیمانی کمیٹیوں میں اس مقصد کے لیے حصہ نہیں لے گی، اور دونوں بل مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی کے چیئرمین نے ابتدا میں کہا کہ ارکان کو پہلے تجاویز پر بریفنگ دی جائے گی، مگر بحث کے اختتام پر بل زیرِ غور نہ لانے اور مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پٹرولیم سیکریٹری حمید یعقوب نے کمیٹی کو بتایا کہ عدالتی حکم کے بعد 2021 سے گیس سیس کی وصولی معطل ہے۔ ان کے مطابق ترمیم کا مقصد دوسرے گیس انفراسٹرکچر کو بھی قانونی دائرے میں لانا تھا۔ فرٹیلائزر مینوفیکچررز ایڈوائزری کونسل کے نمائندے نے مؤقف اختیار کیا کہ صنعت نے متعلقہ انفراسٹرکچر خود تیار کیا اور اس کا فائدہ بالآخر کسانوں تک پہنچے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی لاگت کسی نہ کسی شکل میں منتقل کرنا پڑے گی۔

صنعتی نمائندے نے گیس کے معیار پر بھی شکایت کی اور کہا کہ کھاد کے شعبے کو سبسڈی نہیں مل رہی۔ یہ صنعت کا مؤقف ہے؛ کمیٹی نے اجلاس میں اس دعوے پر کوئی حتمی مالی یا ریگولیٹری فیصلہ نہیں دیا۔ اسی طرح 700 روپے کی رقم کسی سرکاری قیمت نوٹیفکیشن، منظوری یا مارکیٹ میں نافذ شدہ اضافے کی نمائندگی نہیں کرتی۔

موجودہ پیش رفت کا تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ قائمہ کمیٹی نے دونوں ترمیمی بل مؤخر کر دیے ہیں۔ آئندہ اگر بل دوبارہ پیش ہوتے ہیں تو ان کی منظوری، پارلیمانی مراحل، صدر کی توثیق اور عملی قواعد کے بعد ہی کسی نئے سیس یا کھاد کی قیمت پر قانونی اثر پیدا ہو سکتا ہے۔ کسانوں اور صارفین کے لیے فی الحال موجودہ قیمتیں اور نافذ قوانین ہی مؤثر ہیں۔