گلگت بلتستان کے محکمہ وائلڈ لائف اینڈ پارکس نے 2026-27 کے ٹرافی ہنٹنگ سیزن کے لیے مجموعی طور پر 117 جنگلی جانوروں کے شکار کے پرمٹس نیلام کر دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق نیلامی میں تین استور مارخور، 14 بلیو شیپ اور 100 ہمالیائی آئی بیکس کے پرمٹس شامل تھے، جبکہ استور مارخور کے ایک اضافی پرمٹ کو گزشتہ شکار سیزن سے آگے منتقل کیا گیا ہے۔

گلگت میں فاریسٹ، پارکس اینڈ وائلڈ لائف کمپلیکس میں ہونے والی بولی میں آؤٹ فٹرز اور شکاریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سب سے زیادہ قیمت استور مارخور کے ایک پرمٹ کی لگی جو 3 لاکھ 56 ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوا۔ دوسرے پرمٹ کی بولی 3 لاکھ ایک ہزار ڈالر اور تیسرے کی 2 لاکھ 94 ہزار ڈالر رہی۔ یہ اعداد نیلامی میں پرمٹس کی قیمت کو ظاہر کرتے ہیں، جانوروں کی عمومی مالی قدر کو نہیں۔

چیف کنزرویٹر پارکس اینڈ وائلڈ لائف ذاکر حسین کے مطابق بلیو شیپ کے قابلِ برآمد پرمٹس میں سب سے زیادہ بولی 31 ہزار 200 ڈالر اور کم ترین 25 ہزار 100 ڈالر رہی۔ ہمالیائی آئی بیکس کی پرائم کیٹیگری میں سب سے مہنگا قابلِ برآمد پرمٹ 13 ہزار 200 ڈالر جبکہ کم ترین 11 ہزار 500 ڈالر میں فروخت ہوا۔

محکمہ وائلڈ لائف کو توقع ہے کہ اس ٹرافی ہنٹنگ سیزن سے تقریباً 65 کروڑ روپے آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔ مقررہ سیزن 15 اکتوبر سے شروع ہو کر 10 اپریل 2027 تک جاری رہے گا۔ ٹرافی ہنٹنگ گلگت بلتستان میں ایک باقاعدہ انتظامی پروگرام کے تحت ہوتی ہے جس میں مخصوص کوٹے اور اجازت ناموں کے ذریعے محدود شکار کی اجازت دی جاتی ہے۔

اس پروگرام کے بارے میں حکام عموماً یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ منظم اور محدود شکار سے حاصل ہونے والی آمدن مقامی آبادی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے وسائل پیدا کرتی ہے، تاہم جنگلی حیات کے شکار سے متعلق پالیسی ماحولیاتی اور اخلاقی بحث کا موضوع بھی رہتی ہے۔ تازہ نیلامی کے اعداد سے یہ واضح ہے کہ استور مارخور کے پرمٹس بدستور بین الاقوامی شکاریوں اور آؤٹ فٹرز کے لیے سب سے زیادہ مالی قدر رکھتے ہیں۔ عملی شکار صرف متعلقہ قوانین، مقررہ علاقوں، سیزن اور جاری کردہ اجازت ناموں کے تحت ہی کیا جا سکتا ہے۔