واشنگٹن: امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن نے کہا ہے کہ بحرالکاہل میں جاری ایل نینو موسمیاتی کیفیت تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے اور اکتوبر سے دسمبر 2026 کے دوران اس کے تاریخی شدت اختیار کرنے کا امکان 75 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ادارے کے تازہ جائزے کے مطابق اگر موجودہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی تو یہ واقعہ 1950 سے دستیاب جدید ریکارڈ میں سابقہ انتہائی طاقتور ایل نینو واقعات سے بھی آگے جا سکتا ہے۔
NOAA کا تازہ تخمینہ گزشتہ ماہ کے 69 فیصد امکان سے بڑھا ہے۔ بحرالکاہل کے استوائی حصوں میں سطح سمندر کا درجہ حرارت حالیہ مہینوں میں ریکارڈ سطح تک پہنچا ہے، جبکہ بعض گہرے پانیوں میں معمول سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ حرارت ریکارڈ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ ماہرین اس غیر معمولی سمندری حرارت کو موجودہ ایل نینو کی طاقت کا ایک اہم اشارہ سمجھ رہے ہیں۔
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی چکر کا گرم مرحلہ ہے جو عموماً ہر دو سے سات سال بعد سامنے آتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے مخصوص حصوں میں سمندری سطح کا درجہ حرارت معمول سے بڑھ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ہواؤں، فضائی دباؤ، بادلوں اور بارش کے عالمی نمونوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ طاقتور ایل نینو مختلف خطوں میں خشک سالی، غیر معمولی بارش، مون سون میں خلل اور دیگر انتہائی موسمی حالات کے امکانات بڑھا سکتا ہے، لیکن ہر مخصوص مقامی اثر کی پیشگی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
امریکی ادارے نے بھی اسی احتیاط پر زور دیا ہے کہ انتہائی طاقتور ایل نینو کے ساتھ روایتی موسمی اثرات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، تاہم ان کا وقوع لازمی نہیں۔ ماضی کے بڑے واقعات میں ایمیزون، انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے بعض حصوں میں خشک حالات، استوائی علاقوں میں بارش کی تبدیلی اور بھارتی مون سون میں خلل دیکھا گیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے لیے بھی اس پیش رفت کی نگرانی اہم ہوگی، لیکن پاکستان یا کسی مخصوص ملک کے لیے حتمی اثرات مقامی موسمی نظام اور آئندہ علاقائی پیش گوئیوں پر منحصر ہوں گے۔
یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس نے بھی اپنی تازہ پیش گوئی میں سال کے اختتام تک ایل نینو کے سمندری اشاریوں میں مزید مضبوطی کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ اس کے بعد پیش گوئی کی غیر یقینی بڑھ جاتی ہے۔ کوپرنیکس کا جائزہ دنیا کے متعدد بڑے موسمیاتی مراکز کی پیش گوئیوں کو یکجا کرتا ہے۔
ایل نینو عارضی طور پر عالمی اوسط درجہ حرارت کو بھی اوپر دھکیل سکتا ہے، جو انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی طویل مدتی عالمی حدت کے اثرات کے ساتھ مل کر انتہائی گرمی اور دیگر موسمی خطرات بڑھا سکتا ہے۔ موجودہ 75 فیصد تخمینہ ایک امکان ہے، حتمی نتیجہ نہیں؛ اس لیے آنے والے مہینوں میں سمندری درجہ حرارت اور فضائی گردش کے نئے مشاہدات یہ طے کریں گے کہ 2026 کا واقعہ واقعی جدید ریکارڈ کا طاقتور ترین ایل نینو بنتا ہے یا نہیں۔




