گلگت: گلگت بلتستان پولیس نے علاقے میں مقیم اور مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے غیر ملکی شہریوں، بالخصوص چینی باشندوں، کی حفاظت کے انتظامات مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس سلسلے میں 10 اکتوبر 2026 کو سینٹرل پولیس آفس گلگت میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے کی۔ اجلاس میں موجودہ سکیورٹی بندوبست، مختلف مقامات پر تعیناتیوں اور غیر ملکی شہریوں کی آمدورفت سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

پولیس ترجمان کے بیان کے حوالے سے ڈان نے بتایا کہ جائزہ صرف چین پاکستان اقتصادی راہداری سے وابستہ منصوبوں تک محدود نہیں تھا۔ اس میں سی پیک سے باہر ترقیاتی سرگرمیوں، نجی کان کنی، کاروباری منصوبوں اور علاقے میں مختلف جگہوں پر رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکی شہریوں کی حفاظت بھی شامل تھی۔ اس وسیع دائرے کا مقصد ان مقامات کی نشاندہی کرنا تھا جہاں حفاظتی انتظامات میں خامیاں یا اضافی ضروریات موجود ہوسکتی ہیں۔

اجلاس میں اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کی تعیناتی، چیک پوسٹوں، اہم داخلی راستوں اور حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے گلگت، اسکردو، دیامر اور دیگر علاقوں میں چینی شہریوں کی نقل و حرکت کے بارے میں پیشگی اطلاع، تصدیق اور متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ پولیس قیادت نے ہر ضلع میں خطرات کا ازسرنو جائزہ لینے اور سامنے آنے والی خامیوں کو مقررہ مدت کے اندر دور کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

آئی جی نے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد، رہائشی عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کی دوبارہ جانچ اور منظور شدہ رہائشی مقامات کے سکیورٹی آڈٹ کا حکم دیا۔ ضلعی سطح پر مکمل ریکارڈ رکھنے اور اجازت ناموں کی شرائط پر عمل یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ اجلاس میں ڈرائیونگ لائسنس سمیت متعلقہ قانونی تقاضوں اور رات کے اوقات میں نقل و حرکت کی نگرانی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

اجلاس میں پولیس کے متعدد سینئر افسران شریک ہوئے، جن میں ہیڈکوارٹرز اور گلگت رینج کے افسران، اسپیشل برانچ، آپریشنز اور خصوصی حفاظتی یونٹ کے نمائندے شامل تھے۔ آئی جی نے خبردار کیا کہ غیر ملکی شہریوں کی حفاظت میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ رپورٹ میں کسی نئے حملے یا مخصوص فوری خطرے کی تصدیق نہیں کی گئی؛ سامنے آنے والا فیصلہ موجودہ انتظامات کا جائزہ لے کر انہیں مضبوط بنانے سے متعلق ہے۔ ان ہدایات کے عملی نتائج ضلعی سطح پر نفاذ اور اداروں کے درمیان تعاون سے واضح ہوں گے۔