اسلام آباد: وفاقی وزارت داخلہ نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پاکستان آرمی کے دستوں اور وسائل کی تعیناتی کی منظوری دی ہے۔ ڈان کے مطابق یہ اجازت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایک الگ سرکاری نوٹیفکیشن کے ذریعے دی گئی۔ نوٹیفکیشن میں شہریوں کی جان، املاک اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کو اس اقدام کا بنیادی مقصد بتایا گیا ہے۔
وزارت داخلہ کے جاری کردہ قانونی حکم نامے میں آئین کے آرٹیکل 245 کا حوالہ دیا گیا ہے، جو مسلح افواج کی سول اقتدار کی معاونت سے متعلق ہے۔ حکم نامے کے مطابق فوجی دستوں اور دستیاب وسائل کی تعیناتی اس مدت تک مجاز ہوگی جس کے لیے صوبے میں ہنگامی اقدامات کا اعلان نافذ رہے گا۔ اس طرح فوج کی معاونت کے انتظام کو ایمرجنسی کے جاری رہنے سے منسلک کیا گیا ہے۔
حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صوبے میں فوجی دستوں اور وسائل کی مطلوبہ تعداد کا تعین گورنر فیصل کریم کنڈی، راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد کریں گے۔ اس سے متعلق سرکاری مراسلے ایوان صدر، وزیراعظم کے دفتر، گورنر سیکریٹریٹ، صوبائی محکمہ داخلہ، پولیس سربراہ اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی بھجوائے گئے ہیں۔
پشاور میں اسی روز متعدد راستوں پر کنٹینر لگائے جانے اور اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف پولیس کی اضافی نفری تعینات کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ڈان کے نمائندوں کے مطابق گورنر ہاؤس، پولیس دفاتر اور ریڈ زون کے اطراف سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے، جبکہ بعض سڑکوں پر آمدورفت محدود رہی۔ یہ انتظامی اقدامات فوجی تعیناتی کے اجازت نامے سے الگ زمینی پیش رفت ہیں۔
وفاقی اور سابق صوبائی حکومتوں کے درمیان انسداد دہشت گردی کی پالیسی پر اختلافات پہلے ہی شدت اختیار کرچکے تھے۔ تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ صوبائی قیادت کو اہم سکیورٹی فیصلوں میں مناسب نمائندگی نہیں دی جاتی، جبکہ وفاقی حکومت اس تاثر کی تردید کرتی رہی ہے۔ موجودہ نوٹیفکیشن فوج کی تعیناتی کی قانونی اجازت کی تصدیق کرتا ہے، تاہم اس سے ہر ضلع میں دستوں کی عملی موجودگی یا مخصوص تعداد کا خودبخود ثبوت نہیں ملتا۔ مزید انتظامی تفصیلات متعلقہ حکام کے اعلانات سے واضح ہوں گی۔

