اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر 2026 کو وفاقی کابینہ کے فیصلے کی منظوری دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ اس اقدام کے بعد صوبائی انتظامی معاملات میں وفاقی حکومت کا کردار بڑھ گیا ہے اور گورنر کی سربراہی میں نئی انتظامی ترتیب قائم کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صوبے میں شدت پسند حملوں اور وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات پر تشویش بڑھ رہی تھی۔
وفاقی حکومت کے مطابق ایمرجنسی نافذ کرنے کی بنیاد صوبے میں انسداد دہشت گردی کی صورت حال اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کا مبینہ طور پر مطلوبہ تعاون نہ کرنا ہے۔ کابینہ کے مؤقف میں صوبائی حکومت کی دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے لاتعلقی کا حوالہ دیا گیا۔ یہ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے، کسی آزاد عدالتی فیصلے کی صورت میں ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایمرجنسی کے تحت صوبے میں گورنر اور ایک مشاورتی کونسل کے ذریعے امور چلانے کا انتظام کیا گیا ہے اور اس کی مدت چھ ماہ تک ہو سکتی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے نئی انتظامی صورتحال کے لیے آئینی شقوں سے رجوع کیا ہے۔ صوبے میں فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے تعینات کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
تحریک انصاف نے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری کو کمزور کرنے کا اقدام قرار دیا۔ جماعت کا کہنا ہے کہ امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے منتخب صوبائی قیادت کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ دوسری جانب وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اس فیصلے سے صرف سلامتی ہی نہیں بلکہ مرکز اور صوبے کے آئینی اختیارات، عوامی نمائندگی اور سیاسی احتجاج کے حوالے سے بھی نئے سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ صورت حال پر آئندہ قانونی و سیاسی ردعمل اہم ہو گا۔ حکومتی الزامات اور اپوزیشن کے اعتراضات کو الگ الگ مؤقف کے طور پر دیکھنا ضروری ہے؛ ان کی حتمی قانونی حیثیت متعلقہ فورمز کے فیصلوں سے واضح ہوگی۔
