راولپنڈی: نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق ملک کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد منظورشدہ گنجائش سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے۔ رپورٹ میں مجموعی قیدی 110 ہزار 513 اور جیلوں کی سرکاری گنجائش 68 ہزار 832 بتائی گئی ہے۔ اس حساب سے جیلیں تقریباً 160.6 فیصد گنجائش پر چل رہی ہیں، یعنی ہر سو افراد کی گنجائش کے مقابلے میں تقریباً 161 قیدی موجود ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 82 ہزار 988 قیدی ایسے ہیں جن کے مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں۔ یہ مجموعی جیل آبادی کا 75.09 فیصد بنتا ہے۔ زیر سماعت قیدیوں کی تعداد اکیلے ہی ملک کی تمام جیلوں کی منظورشدہ مجموعی گنجائش سے 14 ہزار 156 زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار سزا یافتہ افراد اور مقدمات کے فیصلوں کے منتظر لوگوں کے درمیان فرق کو نمایاں کرتے ہیں؛ زیر سماعت ہونا کسی شخص کے جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔
رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کمیشن کی سربراہ رابعہ آغا نے کہا کہ مسئلہ محض جیلوں میں جگہ کی کمی تک محدود نہیں بلکہ فوجداری نظام انصاف کی کارکردگی سے بھی متعلق ہے۔ ان کے مطابق لوگ جس رفتار سے جیلوں میں داخل ہورہے ہیں، مقدمات کے فیصلے اسی رفتار سے نہیں ہوپاتے۔ اس بیان سے مقدمات کے التوا، حراست کی مدت اور متبادل قانونی طریقوں کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
رپورٹ میں منشیات سے متعلق قوانین کے تحت قید افراد کی تعداد بھی اہم مسئلے کے طور پر سامنے آئی۔ دستیاب تفصیل کے مطابق 28 ہزار سے زیادہ افراد کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ کے تحت جیلوں میں ہیں۔ یہ مجموعی جیل آبادی کے ایک چوتھائی سے زیادہ ہیں اور 2023 کے مقابلے میں اس زمرے کی تعداد میں 43.4 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار قانون کے نفاذ، عدالتی کارروائی اور جیلوں پر دباؤ کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔
جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال نے کہا کہ رپورٹ کا مقصد پالیسی سازوں، انصاف کے نظام سے وابستہ اداروں اور اصلاحاتی کام کرنے والوں کو قابل استعمال شواہد فراہم کرنا ہے۔ یورپی یونین کے نمائندے نے جیلوں کے انتظام میں بہتری کی کوششوں کا ذکر کیا، جن میں بلوچستان میں معلوماتی نظام کا آغاز اور خیبر پختونخوا کی پانچ جیلوں میں متعلقہ اقدامات شامل ہیں۔ رپورٹ کی روشنی میں زیر سماعت مقدمات کی رفتار اور قیدیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق اصلاحات ایک اہم پالیسی ضرورت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔
