گلگت: گلگت بلتستان پولیس نے کارپورل اور کانسٹیبل کی بھرتیوں کے دوران شارٹ لسٹ امیدواروں کی جگہ مبینہ طور پر انٹرویو دینے کی کوشش کرنے والے 58 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 419 کے تحت نقالی کے الزامات میں مقدمات درج کیے گئے اور انہیں بھرتی کے عمل سے نااہل کردیا گیا ہے۔

گلگت کے سینٹرل پولیس آفس میں دو ہزار سے زیادہ مرد اور خواتین امیدواروں کے انٹرویوز جاری ہیں۔ یہ امیدوار تحریری امتحان پاس کرنے کے بعد اگلے مرحلے کے لیے شارٹ لسٹ کیے گئے تھے۔ بھرتی مہم کا مقصد پولیس محکمے میں کارپورل اور کانسٹیبل کی 800 سے زیادہ خالی آسامیوں کو پُر کرنا ہے۔

گلگت بلتستان پولیس کے ترجمان کے مطابق بھرتی کے عمل میں قانون کی خلاف ورزی اور دھوکا دہی میں ملوث افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ شفافیت اور میرٹ برقرار رکھا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات اہل امیدواروں کے حقوق کے تحفظ اور بھرتی کے نظام پر عوامی اعتماد قائم رکھنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ انٹرویوز طے شدہ اہلیت اور میرٹ کے معیار کے مطابق لیے جا رہے ہیں اور صرف وہ امیدوار بلائے گئے ہیں جنہوں نے تحریری امتحان کامیابی سے مکمل کیا تھا۔ حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے 58 افراد پر الزام ہے کہ وہ اصل امیدواروں کی جگہ انٹرویو میں شریک ہوئے۔ یہ الزامات مقدمات میں درج کیے گئے ہیں؛ ان افراد کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

پولیس نے 800 سے زیادہ آسامیوں کے لیے بھرتی کا اشتہار جاری کیا تھا، جس کے بعد پورے گلگت بلتستان سے دو ہزار سے زائد امیدوار انٹرویو مرحلے تک پہنچے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انٹرویوز مکمل ہونے کے چند دن بعد کامیاب امیدواروں کی فہرست جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔

بھرتی کے دوران نقالی کا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پولیس جیسے قانون نافذ کرنے والے ادارے میں تقرری کے عمل کی ساکھ براہ راست میرٹ اور شناخت کی درست تصدیق سے جڑی ہوتی ہے۔ موجودہ کارروائی میں پولیس نے گرفتاریوں اور مقدمات کی تصدیق کی ہے، تاہم ہر ملزم کے خلاف الزام کی نوعیت اور شواہد کا حتمی عدالتی جائزہ الگ مرحلہ ہوگا۔ بھرتی کا عمل فی الحال جاری ہے اور پولیس نے کہا ہے کہ بے ضابطگیوں کے خلاف نگرانی بھی جاری رہے گی۔