کراچی: سندھ حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ تقریباً تیرہ سال قبل منظور ہونے والے Sindh Witness Protection Act, 2013 کا جائزہ لے کر بین الاقوامی بہترین طریقوں کے مطابق ترامیم تجویز کی جائیں گی اور اس کے بعد قانون کے تحت قواعد مرتب کیے جائیں گے۔ ڈان کے مطابق یہ پیش رفت اس درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئی جس میں قانون کے مؤثر نفاذ کے لیے قواعد نہ بنائے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست 2023 میں دائر کی گئی تھی اور سندھ ہائی کورٹ اس کے بعد متعلقہ حکام کو متعدد ہدایات جاری کر چکی ہے۔ گزشتہ سماعتوں میں عدالت نے طویل تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اور ہوم و قانون محکموں کے سیکریٹریز کو طلب کیا تھا۔ تازہ سماعت میں قانون سیکریٹری سعید احمد شیخ اور ایڈیشنل ہوم سیکریٹری جاوید احمد ابڑو نے تعمیلی رپورٹ جمع کرائی۔
صوبائی حکام نے عدالت کو بتایا کہ قانون میں تصور کیا گیا ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کیا جا چکا ہے، جس میں witness protection advisory board، witness protection unit اور یونٹ کی معاونت کے لیے کمیٹی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق صوبے کے تمام اضلاع میں گواہ تحفظ افسران بھی نوٹیفائی کیے جا چکے ہیں اور یونٹ ان معاملات میں تحفظ اور معاونت فراہم کرتا رہا ہے جہاں درخواست یا عدالتی حکم موجود ہو۔ یہ صوبائی حکومت کا عدالت میں جمع کرایا گیا مؤقف ہے، جبکہ درخواست گزار نے قانون کے نفاذ کی کمیوں پر اعتراضات اٹھا رکھے ہیں۔
جسٹس یوسف علی سعید کی سربراہی میں سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی آئینی بینچ نے اپنے حکم میں قانون کی دفعہ 29 کا حوالہ دیا، جو حکومت کو ایکٹ کے مقاصد پورے کرنے کے لیے قواعد بنانے کا اختیار دیتی ہے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ پہلے مسودہ قواعد کی جانچ کا بتایا گیا تھا، مگر اب ہوم ڈیپارٹمنٹ قانون ڈیپارٹمنٹ سے مشاورت کے ذریعے ایکٹ کا جائزہ لے کر ترامیم تجویز کرنا چاہتا ہے، اور قواعد ان ترامیم کے بعد بنائے جائیں گے۔
بینچ نے سماعت 12 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے درخواست گزار کو اس سوال پر دلائل کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی کہ دفعہ 29 کی زبان کے پیش نظر قواعد بنانا حکومت پر لازم ہے یا نہیں، اور آیا قواعد نہ ہونے سے قانون کی کوئی بنیادی شق غیر مؤثر ہو رہی ہے۔ 2013 کا قانون فوجداری مقدمات کے گواہوں کو تحفظ، مناسب رہائش، مالی معاونت اور بعض حالات میں قانونی ورثا کے لیے معاوضے سمیت حفاظتی فریم ورک فراہم کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔ موجودہ عدالتی کارروائی کا مرکزی مسئلہ اس فریم ورک کے مکمل عملی نفاذ اور قواعد کی تیاری میں تاخیر ہے؛ عدالت نے ابھی اس تنازع پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔

