پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبے بھر میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا فوری حفاظتی آڈٹ کرنے اور غیر محفوظ قرار پانے والی عمارتوں میں کلاسیں معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ڈان کے مطابق یہ ہدایات پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے کے مہلک واقعے کے بعد جاری کی گئیں۔ محکمانہ خط میں کہا گیا ہے کہ خطرناک عمارتوں میں زیر تعلیم طلبہ کو فوری طور پر قریبی اسکولوں یا کسی مناسب محفوظ جگہ منتقل کیا جائے۔

ڈائریکٹر تعلیم جعفر منصور نے بتایا کہ سیکریٹری تعلیم نے پشاور واقعے کے بعد یہ ہدایات جاری کیں اور سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا سروے کیا جا رہا ہے۔ ضلعی سطح کے تعلیمی حکام کو بھی معائنہ اور رپورٹنگ کے احکامات دیے گئے ہیں۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ تدریسی سرگرمیاں صرف ضروری مرمت مکمل ہونے اور مجاز تکنیکی اتھارٹی سے عمارت کی فٹنس کی تصدیق کے بعد دوبارہ شروع کی جا سکیں گی۔

محکمانہ ہدایت کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، تمام مرد و خواتین ضلعی تعلیمی افسران اور متعلقہ فیلڈ افسران غیر محفوظ عمارتوں کے بارے میں موصول ہونے والی شکایات، تصاویر، ویڈیوز اور رپورٹس کی فوری جانچ کریں گے۔ معلومات روایتی و ڈیجیٹل میڈیا، محکمانہ ذرائع اور دیگر معتبر چینلز سے مل سکتی ہیں۔ بڑے ساختی نقائص سامنے آنے پر معاملہ تکنیکی جانچ اور مناسب اصلاحی کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں کو بھیجا جائے گا۔

محکمہ نے ہدایت کی ہے کہ مرمت کو ترجیحی بنیاد پر پلاننگ ونگ، تکنیکی حکام اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے مکمل کیا جائے۔ ہر شکایت، معائنہ، خطرے کی جانچ اور کیے گئے اقدام کا ریکارڈ رکھنے کو بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ سیکریٹری تعلیم نے 21 اکتوبر تک ضلع وار جامع رپورٹ طلب کی ہے جس میں معائنہ شدہ عمارتوں، غیر محفوظ اسکولوں، کلاسوں کی معطلی، طلبہ کی منتقلی اور اصلاحی اقدامات کی تفصیل شامل ہوگی۔

پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں اور مدارس کی عمارتوں کے معائنے بھی شروع کیے ہیں، جبکہ لوئر دیر اور صوابی میں بھی مقامی سطح پر حفاظتی و ساختی جائزے کیے جا رہے ہیں۔ بعض مقامات پر خطرناک کلاس روم سامنے آنے پر احتیاطاً تدریس روکنے کے احکامات دیے گئے۔ صوبائی اقدام کا بنیادی مقصد طلبہ اور اساتذہ کو عمارتوں سے لاحق ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور اصلاح کے ذریعے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس عمل کے نتائج ضلع وار رپورٹس اور تکنیکی فٹنس سرٹیفکیٹس سامنے آنے کے بعد زیادہ واضح ہوں گے۔