لاہور: پنجاب کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے صوبے کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیوں کے دوران آٹھ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ڈان کے مطابق سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ مجموعی طور پر 91 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے اور اتنے ہی افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ گرفتار کیے گئے افراد کی شناخت شہزاد اکبر، محمود، علی، نعمان، عدنان، فاروق، رحمان اور ہمایوں کے ناموں سے بتائی گئی ہے۔
سی ٹی ڈی کے بیان کے مطابق گرفتاریاں گوجرانوالہ، بہاولپور، چنیوٹ، راولپنڈی، بھکر اور سرگودھا میں کی گئیں۔ محکمے نے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران 465 گرام دھماکا خیز مواد، تین سیفٹی فیوز تاریں جن کی مجموعی لمبائی 20 فٹ بتائی گئی، دو دستی بم، ممنوعہ مواد، پمفلٹس، میگزین، پرائما کارڈ اور موبائل فون برآمد کیے گئے۔ یہ تفصیلات قانون نافذ کرنے والے ادارے کے سرکاری دعوے پر مبنی ہیں اور رپورٹ میں کسی عدالتی فیصلے یا ملزمان کے جرم ثابت ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق گرفتار افراد کے خلاف دہشت گردی سے متعلق دفعات کے تحت سات مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقدمہ درج ہونا اور گرفتاری تفتیشی عمل کے مراحل ہیں؛ کسی ملزم کو مجرم قرار دینے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔ اسی لیے زیر حراست افراد کے بارے میں سی ٹی ڈی کے الزامات کو حتمی عدالتی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ دستیاب رپورٹ میں ملزمان کے وکلا یا اہل خانہ کا مؤقف شامل نہیں ہے۔
پنجاب میں سی ٹی ڈی مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کرتا ہے جن کا مقصد مبینہ دہشت گرد نیٹ ورکس، ممنوعہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد اور ممکنہ حملوں کے لیے استعمال ہونے والے مواد کی نشاندہی بتایا جاتا ہے۔ موجودہ کارروائی میں بھی محکمہ نے متعدد شہروں میں الگ مقامات پر چھاپوں اور پوچھ گچھ کا ذکر کیا ہے، تاہم ہر گرفتار شخص کے خلاف مخصوص الزام، مبینہ تنظیمی وابستگی یا ممکنہ ہدف کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
کیس کے اگلے مراحل میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو متعلقہ عدالتوں کے سامنے شواہد پیش کرنا ہوں گے اور قانونی تقاضوں کے مطابق تفتیش آگے بڑھے گی۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ خبر گرفتاریوں، برآمدگی کے سرکاری دعوے اور مقدمات کے اندراج تک محدود ہے۔ کسی ممکنہ منصوبے، نیٹ ورک یا ملزمان کے کردار کے بارے میں ایسی تفصیل جو سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی، اسے اخذ کرنا درست نہیں ہوگا۔

