کراچی: پاکستان کے پہلے قومی سطح پر نمائندہ ذہنی صحت سروے کے مطابق تقریباً ہر تین میں سے ایک بالغ فرد کسی قابلِ تشخیص ذہنی یا رویہ جاتی عارضے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ پاکستان سائیکائٹرک سوسائٹی سے وابستہ محققین کے مطابق پانچ سالہ تحقیق میں چاروں صوبوں سے تقریباً 18 ہزار بالغ افراد شامل ہوئے اور اس کے نتائج برٹش میڈیکل جرنل میں شائع کیے گئے ہیں۔
مطالعے میں 32 فیصد بالغ شرکا میں سروے کے وقت ذہنی یا رویہ جاتی عارضہ رپورٹ ہوا، جبکہ 38 فیصد نے زندگی کے کسی مرحلے میں ایسے عارضے کا تجربہ کیا تھا۔ محققین کے مطابق ہر پانچ میں سے تقریباً ایک بالغ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کے معیار پر پورا اترا، دس فیصد سے زیادہ میں ڈپریشن کی علامات قابلِ تشخیص سطح پر تھیں اور چھ فیصد نے گزشتہ ماہ خودکشی سے متعلق خیالات کی اطلاع دی۔ یہ اعداد آبادی کی سطح کے تحقیقی نتائج ہیں اور کسی فرد کی ذاتی تشخیص کے متبادل نہیں۔
تحقیق کی قیادت حمدرد یونیورسٹی کراچی کے پروفیسر رضا الرحمان نے کی، جبکہ برطانیہ اور امریکا کے تعلیمی اداروں اور پاکستان کے نفسیاتی مراکز نے تعاون کیا۔ محققین نے سماجی و معاشی تفاوت بھی نوٹ کیے: نسبتاً زیادہ شرحیں بڑی عمر کے افراد، کم تعلیم یا کم آمدن رکھنے والوں، بے روزگار افراد اور بیوہ، طلاق یافتہ یا علیحدہ رہنے والے شرکا میں سامنے آئیں۔
مطالعے کے مطابق ذہنی صحت کے مسائل خاندانی زندگی، سماجی تعلقات اور کام کرنے کی صلاحیت پر نمایاں اثرات سے منسلک تھے۔ محققین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں طویل عرصے تک پالیسی سازوں کو محدود مقامی مطالعات یا بین الاقوامی تخمینوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جبکہ یہ سروے قومی سطح پر زیادہ جامع شواہد فراہم کرتا ہے۔
تحقیقی ٹیم نے ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کے نظام میں زیادہ مؤثر طور پر شامل کرنے، کمیونٹی سطح کی معاونت میں سرمایہ کاری، فرنٹ لائن طبی عملے کی تربیت اور ذہنی بیماریوں سے جڑی سماجی بدنامی کم کرنے کی سفارش کی ہے۔ ماہرین نے ساتھ ہی ماہر نفسیات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی کو پاکستان کے ذہنی صحت نظام کے اہم چیلنجوں میں شمار کیا ہے۔
