اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عازمین کے لیے میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسینیشن خدمات کی خریداری کے عمل کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کردی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سات دوا ساز کمپنیوں نے متعلقہ ٹینڈر اور کنٹریکٹ کے طریقہ کار کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے اور خریداری کے قواعد اور شفافیت سے متعلق اعتراضات اٹھائے ہیں۔

کمیٹی میں انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، اٹارنی جنرل آف پاکستان کا نمائندہ اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر شامل ہیں۔ پی پی آر اے کے منیجنگ ڈائریکٹر کمیٹی کے رکن اور سیکریٹری کی ذمہ داری بھی انجام دیں گے۔

کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ خریداری کے مکمل عمل کا جائزہ لے، جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ طریقہ اختیار کرنے کی وجہ، اس کی قانونی بنیاد، مطلوبہ منظوریوں اور پی پی آر اے قواعد کے تحت پروکیورمنٹ کے مراحل کی جانچ شامل ہے۔ کمیٹی بڈنگ دستاویزات، ویکسین کی مطلوبہ مقدار، ادائیگی کی شرائط، معیاری بڈنگ دستاویزات اور بولیوں کی جانچ کے معیار کو بھی دیکھے گی۔

معاملہ عدالت میں بھی زیر سماعت ہے۔ سات فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اس پروکیورمنٹ کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان نے میننجائٹس اور انفلوئنزا ویکسینیشن خدمات کا کنٹریکٹ ایک نجی کمپنی کو دیا۔ درخواست گزار کمپنیوں نے سرکاری خریداری کے قواعد کی خلاف ورزی اور شفافیت کی کمی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ یہ الزامات تاحال عدالتی یا تحقیقاتی طور پر ثابت شدہ نتائج نہیں ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزارت قومی صحت، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی، وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور متعلقہ نجی کمپنی کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور بارڈر ہیلتھ سروسز کا مؤقف ہے کہ تمام متعلقہ قواعد کی پیروی کی گئی اور وہ عدالت میں اپنا جواب جمع کرائیں گے۔

وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کی تحقیقات انتظامی جانچ ہے اور اسے کسی فریق کے خلاف پیشگی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حتمی ذمہ داری یا قانونی خلاف ورزی کا تعین دستیاب ریکارڈ، کمیٹی کی findings اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی ہوگا۔ فی الحال اہم پیش رفت یہ ہے کہ وفاقی سطح پر خریداری کے طریقہ کار کی باضابطہ چھان بین شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔