خیبرپختونخوا میں ڈینگی کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں صوبے کی تازہ صورتحال، انسداد ڈینگی ایکشن پلان اور نگرانی کے نظام کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ صوبے بھر میں اب تک ڈینگی کے 3,771 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور دو اموات اس بیماری سے منسوب کی گئی ہیں۔

سرکاری بریفنگ کے مطابق ضلع کوہاٹ سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 2,319 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ اجلاس میں مشیر صحت لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر، سیکریٹری صحت اور متعلقہ محکموں کے سینئر حکام شریک ہوئے۔ بریفنگ میں کیس رپورٹنگ، سرویلنس، روک تھام کی سرگرمیوں اور متاثرہ اضلاع میں انتظامی ردعمل کی تفصیلات پیش کی گئیں۔

حکام نے ڈینگی کے پھیلاؤ میں متعدد عوامل کا ذکر کیا، جن میں موسمیاتی تبدیلی، غیر منصوبہ بند شہری آبادی میں اضافہ، صفائی کی خراب صورتحال اور بجلی کی لوڈشیڈنگ شامل ہیں۔ یہ عوامل سرکاری بریفنگ کا حصہ تھے؛ کسی ایک عامل کو تمام کیسز کی حتمی وجہ قرار نہیں دیا گیا۔

صوبائی حکام کے مطابق ایک جامع ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے جس میں متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں۔ کیسز کی بروقت شناخت اور نگرانی کے لیے رپورٹنگ اور سرویلنس نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی کام جاری ہے، جبکہ عوامی آگاہی کے لیے متعلقہ محکموں کی مدد سے مہم چلائی جا رہی ہے۔

ممکنہ ہنگامی ضرورت سے نمٹنے کے لیے صوبے میں مجموعی طور پر 1,666 بستروں کی گنجائش کے آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں۔ گورنر نے کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ کو وبا پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کی ہدایت کی اور پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھنے کو کہا۔ دیگر متاثرہ اضلاع میں بھی ضلعی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے میں فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

گورنر نے متعلقہ اداروں کو یہ بھی کہا کہ انسداد ڈینگی مہم کے لیے ضلعی انتظامیہ کو درکار وسائل ترجیحی بنیادوں پر فراہم کیے جائیں۔ موجودہ اعداد صوبے میں بیماری کے نمایاں بوجھ کو ظاہر کرتے ہیں، خصوصاً کوہاٹ میں، تاہم صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ کیسز اور اموات کے اعداد بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔