نیویارک/سنگاپور: مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی سے متعلق بڑے صنعت رہنماؤں کے نئے حفاظتی انتباہات کے بعد پیر 14 ستمبر 2026 کو امریکا، یورپ اور ایشیا میں اے آئی سے منسلک ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ رائٹرز کے مطابق سرمایہ کاروں نے اس خدشے پر ردعمل دیا کہ اگر بڑی اے آئی کمپنیاں ترقی کی رفتار کم کرتی ہیں یا سرمایہ کاری کے منصوبوں پر نظرثانی کرتی ہیں تو حالیہ برسوں میں عالمی اسٹاک مارکیٹ کو سہارا دینے والی اے آئی سرمایہ کاری کی لہر متاثر ہو سکتی ہے۔

امریکی مارکیٹ میں نیسڈیک 100 ابتدائی کاروبار کے دوران تقریباً 1.2 فیصد گر کر چھ ہفتوں کی کم ترین سطح تک پہنچا، اگرچہ بعد میں خسارہ کم ہوا۔ فلاڈیلفیا سیمی کنڈکٹر انڈیکس ایک موقع پر 5 فیصد سے زیادہ نیچے گیا۔ اینویڈیا، اے ایم ڈی اور مائکرون جیسے بڑے چِپ ساز اداروں کے حصص بھی دباؤ میں رہے، جبکہ سیمی کنڈکٹر آلات بنانے والی بعض کمپنیوں میں اس سے بھی زیادہ کمی دیکھی گئی۔ یورپ میں ٹیکنالوجی شعبہ تقریباً 2.2 فیصد نیچے آیا اور ایشیا میں سافٹ بینک کے حصص 10 فیصد سے زیادہ گرے، جبکہ ٹی ایس ایم سی اور ایس کے ہائنکس بھی کمزور رہے۔

مارکیٹ میں بے چینی اس وقت بڑھی جب انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودئی نے اے آئی کمپنیوں سے ماڈلز کی صلاحیتیں بڑھانے کی رفتار سست کرنے کی اپیل کی اور ممکنہ غلط استعمال و بڑے پیمانے کے نقصان کے خطرات پر زور دیا۔ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سام آلٹمین اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے بھی ان خدشات کے بعض حصوں سے اتفاق ظاہر کیا۔ آلٹمین نے یہ بھی کہا کہ اوپن اے آئی رواں سال آئی پی او کے ساتھ آگے نہیں بڑھے گی۔ یہ بیانات کمپنی سربراہان کی آرا اور پالیسی ترجیحات ہیں؛ ان سے کسی مخصوص تباہ کن نتیجے کا وقوع ثابت نہیں ہوتا۔

اے آئی شعبے میں بھاری انفراسٹرکچر سرمایہ کاری حالیہ برسوں میں ڈیٹا سینٹرز، چِپس، بجلی اور نیٹ ورکنگ کمپنیوں کے لیے بڑے کاروباری مواقع کا باعث بنی ہے۔ تاہم اسی سرمایہ کاری کا ایک بڑھتا حصہ قرض، طویل مدتی سرمائے کے وعدوں اور ایک دوسرے سے جڑی فنانسنگ پر منحصر ہے۔ عالمی بانڈ ییلڈز بلند رہنے کی وجہ سے قرض کی لاگت میں اضافہ اس شعبے کی ویلیوایشن اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے ایک اضافی خطرہ بن گیا ہے۔

تمام سرمایہ کار صنعت سربراہان کے انتباہات کو یکساں اہمیت نہیں دے رہے۔ بعض مارکیٹ شرکا کا خیال ہے کہ بڑی کمپنیوں اور ممالک کے درمیان مسابقت اتنی شدید ہے کہ سرمایہ کاری اچانک رکنے کا امکان کم ہے۔ مورگن اسٹینلی نے پہلے اندازہ لگایا تھا کہ 2027 تک اے آئی پر عالمی اخراجات 1.3 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتے ہیں، لیکن یہ ایک پیش گوئی ہے اور اس کے پورا ہونے کی ضمانت نہیں۔

14 ستمبر کی مصدقہ پیش رفت عالمی منڈیوں میں اے آئی سے منسلک حصص کی وسیع فروخت ہے۔ اس گراوٹ کی شدت دن کے دوران بدلتی رہی، اس لیے اسے کسی مستقل مارکیٹ رجحان یا اے آئی سرمایہ کاری کے اختتام کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔ آئندہ سمت کمپنیوں کے سرمائے کے منصوبوں، ریگولیٹری ردعمل، شرح سود اور اے آئی ماڈلز کی ترقی سے متعلق عملی فیصلوں پر منحصر رہے گی۔