ایک نئی تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ عالمی بایوفیول پیداوار 2025 کی سطح کے مقابلے میں 2030 تک تقریباً 70 فیصد بڑھ سکتی ہے۔ لندن میں قائم تھنک ٹینک Chatham House اور Forest Stewardship Council کی مشترکہ تحقیق کے مطابق ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والے توانائی بحران، فوسل فیول کی بلند قیمتوں اور مختلف ملکوں کی جانب سے ایندھن میں بایوفیول کی لازمی آمیزش بڑھانے کے اقدامات اس تیزی کے بڑے عوامل ہیں۔
بایوفیول میں ایتھانول اور دیگر ایسے ایندھن شامل ہیں جو مکئی، گنے، تیل دار فصلوں، جانوروں کی خوراک، زرعی باقیات یا استعمال شدہ خوردنی تیل جیسے نامیاتی مواد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ فوسل فیول مہنگا ہونے کی صورت میں یہ متبادل زیادہ مسابقتی ہو جاتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق برازیل، چین، بھارت، انڈونیشیا، امریکا اور یورپی یونین سمیت متعدد بڑی منڈیوں نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد بایوفیول بلینڈنگ کے اہداف بڑھانے کی تجاویز دی ہیں یا نئے ضوابط نافذ کیے ہیں۔
مطالعے کے مصنفین نے خبردار کیا کہ اگر تمام مجوزہ اہداف مکمل طور پر نافذ ہو گئے تو 2030 تک بایوفیول خام مال اگانے کے لیے درکار زمین 2023 کے مقابلے میں دوگنی سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ اضافی ضرورت تقریباً 3 کروڑ 60 لاکھ ہیکٹر بتائی گئی ہے، جو تقریباً جرمنی کے رقبے کے برابر ہے۔ اس توسیع سے خوراکی فصلوں، پانی، جنگلات اور زمین کے استعمال پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
تحقیق میں خاص طور پر پہلی نسل کے بایوفیول، جو مکئی اور گنے جیسی خوراکی یا فیڈ فصلوں سے بنتے ہیں، کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی پیداوار زمین کی خرابی، پانی کے استعمال اور غذائی تحفظ پر منفی اثرات پیدا کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس زرعی باقیات، فضلے یا استعمال شدہ تیل سے بننے والے جدید بایوفیول کے ماحولیاتی اثرات نسبتاً کم ہو سکتے ہیں، اگر ان کے لیے مناسب ضابطے اور سرٹیفیکیشن موجود ہوں۔
مطالعے کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد خام تیل کی قیمتیں تقریباً 40 فیصد جبکہ چینی اور مکئی کی قیمتیں بھی قریب 20 فیصد بڑھی ہیں۔ مصنفین کا کہنا ہے کہ توانائی سکیورٹی کے فوری اہداف حاصل کرنے کی کوشش درمیانی مدت میں خوراکی عدم تحفظ بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اگر اس کے ساتھ شدید موسم یا فصلوں کا کوئی نیا جھٹکا بھی آ جائے۔ اس لیے بایوفیول پالیسی کے ساتھ زمین، خوراک اور جنگلات کے تحفظ کے ضوابط کو بھی اسی رفتار سے مضبوط کرنا ضروری ہوگا۔

