جمعہ 9 اکتوبر کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، لیکن توانائی کی بلند قیمتوں اور حکومتی بانڈز کے منافع میں اضافے سے متعلق خدشات اپنی جگہ برقرار رہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سرمایہ کاروں کے ردعمل میں بہتری آئی کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ یہ صدر کا بیان ہے، اسے مستقبل کی کسی کارروائی کی قطعی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں تقریباً 0.5 فیصد اور ٹیکنالوجی سے متعلق کمپنیوں کے زیادہ وزن والے نیسڈیک انڈیکس میں تقریباً 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے منڈی کی مجموعی کارکردگی کو سہارا دیا۔ یورپ اور ایشیا کے کئی حصص بازاروں میں بھی تیزی رہی، تاہم تمام شعبوں کی کارکردگی یکساں نہیں تھی۔ بعض ٹیلی کام کمپنیوں کے حصص پر سیٹلائٹ خدمات کے میدان میں متوقع مسابقت کے خدشات کا دباؤ رہا۔
تیل کی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ رہی۔ توانائی کی بلند قیمتیں عالمی مہنگائی کے امکانات پر اثر انداز ہوتی ہیں اور ان سے صنعتوں، ٹرانسپورٹ اور صارفین پر اخراجات کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع اور قرض حاصل کرنے کی دوسری لاگتیں کئی سال کی بلند سطحوں کے قریب رہیں۔ شرحِ منافع بڑھنے کا مطلب حکومتوں اور بعض کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا مہنگا ہونا بھی ہوسکتا ہے۔
سرمایہ کار امریکی بڑے بینکوں کے سہ ماہی مالی نتائج اور آنے والے مہنگائی کے اعدادوشمار پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ معلومات فیڈرل ریزرو کی شرح سود سے متعلق توقعات کو متاثر کرسکتی ہیں۔ روئٹرز نے یہ بھی بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے پر بھاری سرمایہ خرچ کرنے والی کمپنیوں کی مالی حالت اور ممکنہ نئے سرمایہ اکٹھا کرنے کے منصوبے زیرِ بحث رہے۔
عالمی منڈیوں کی ایک دن کی تیزی سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ توانائی، قرض اور مہنگائی سے متعلق بنیادی خطرات ختم ہوگئے ہیں۔ قیمتیں مسلسل بدلتی رہتی ہیں اور یہاں دیے گئے اشاریے 9 اکتوبر کی رپورٹ میں بیان کردہ صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں۔
