اسلام آباد: عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) نے 8 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اپنے عالمی تجارتی منظرنامے کی تازہ رپورٹ میں رواں اور آئندہ سال کے لیے اشیا کی بین الاقوامی تجارت میں متوقع اضافے کے تخمینے بہتر کیے ہیں۔ ڈان کے مطابق تنظیم کے ماہرین نے 2026 کے لیے عالمی تجارتی حجم کی شرح نمو 3.9 فیصد اور 2027 کے لیے 4.1 فیصد بتائی ہے۔
یہ دونوں اندازے مشرق وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے بعد مارچ میں ظاہر کیے گئے تخمینوں سے زیادہ ہیں۔ اس وقت 2026 کے لیے 1.9 فیصد اور 2027 کے لیے 2.6 فیصد نمو متوقع قرار دی گئی تھی۔ نئی پیش گوئی میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم اب عالمی سطح پر تجارتی سرگرمی کو سابقہ توقع کے مقابلے میں زیادہ مضبوط دیکھ رہی ہے، البتہ پیش گوئی اور حقیقی حاصل ہونے والے نتائج میں فرق رہ سکتا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی تنظیم نے مصنوعی ذہانت سے متعلق طلب کو بھی بین الاقوامی اشیائی تجارت کی سرگرمیوں کے اہم عوامل میں شمار کیا۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور تجارتی راستوں میں رکاوٹیں مختلف ممالک اور صنعتوں کو یکساں متاثر نہیں کر رہیں۔ جہاں بعض تجارتی شعبے اضافی لاگت اور تاخیر کا سامنا کرتے ہیں، وہاں کچھ ملکوں اور خدمات کو بدلے ہوئے مال برداری راستوں سے فائدہ پہنچنے کی نشان دہی کی گئی ہے۔
تنظیم کے تجزیے میں پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کے بعض تجارتی شعبوں میں ان تبدیلیوں کے دوران اضافہ دیکھا گیا۔ ڈان کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی سمندری مال برداری کی خدمات کی برآمدات میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 73 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس مخصوص شعبے کی نمو کو پاکستان کی تمام برآمدات یا مجموعی معیشت کی یکساں کارکردگی نہیں سمجھنا چاہیے۔
نئی عالمی پیش گوئی تجارتی پالیسی سازوں، بندرگاہوں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور برآمد کنندگان کے لیے اہم اشارہ فراہم کرتی ہے۔ تاہم اس کی بنیاد پر مستقبل میں مخصوص حجم کی پاکستان کو آمدن یا کسی طے شدہ اضافی تجارتی فائدے کا اعلان نہیں کیا جا سکتا۔ اصل نتائج عالمی طلب، شپنگ کی صورتحال اور علاقائی سلامتی سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پیچیدہ عالمی حالات میں بعض تجارتی خدمات کی طلب میں اضافہ بھی ممکن ہے۔
