اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے برآمدی گوشت اور مویشی پالنے کے کاروبار سے متعلق نئے قواعد جاری کیے ہیں، جن کے تحت مخصوص زندہ جانوروں کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی چھوٹ فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ اس سہولت کا مقصد درآمد کیے گئے جانوروں کو ملک میں فربہ کرکے دوبارہ زندہ حالت میں یا گوشت اور اس سے تیار مصنوعات کی صورت میں بیرون ملک فروخت کرنا ہے۔ ایف بی آر نے ایس آر او 1752 مجریہ 2026 کے ذریعے اس انتظام کا خاکہ پیش کیا ہے، جسے متعلقہ فریقوں کی آرا کے بعد آئندہ سات دن میں حتمی شکل دینے کی بات کی گئی ہے۔

مجوزہ اسکیم میں کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ودہولڈنگ انکم ٹیکس سے استثنا شامل ہے۔ تاہم یہ چھوٹ مقررہ برآمدی ذمہ داریوں اور نگرانی کی شرائط سے مشروط ہوگی۔ اسکیم کا اطلاق پاکستان میں پیدا ہونے والے جانوروں پر نہیں ہوگا اور خالص نسل کے افزائشِ نسل کے جانور بھی متعلقہ دائرے سے باہر رکھے گئے ہیں۔

ایف بی آر کی تجویز میں دو الگ راستے مقرر ہیں۔ پہلے، ٹریک اے، کے تحت زندہ جانور درآمد کر کے فربہ کیے جائیں گے اور پھر جانوروں ہی کی صورت میں برآمد ہوں گے۔ دوسرے، ٹریک بی، کے تحت جانور درآمد کرنے کے بعد انہیں فربہ کیا جائے گا، مقررہ ضابطوں کے مطابق ذبح اور پراسیس کر کے گوشت یا گوشت کی مصنوعات بیرون ملک روانہ کی جائیں گی۔ دونوں راستوں میں برآمدی شرط بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

منظور شدہ کاروباروں کو درآمد شدہ جانوروں کے لیے چارہ، ویٹرنری ادویات، ویکسین، سپلیمنٹس، جراثیم کش اشیا اور شناختی آلات بھی مخصوص شرائط پر ڈیوٹی و ٹیکس کے بغیر حاصل کرنے کی سہولت دینے کی تجویز ہے۔ ان اشیا کو صرف اسکیم کے تحت درآمد شدہ اور برآمد کے لیے تیار کیے جانے والے جانوروں پر استعمال کرنا ہوگا۔ متعلقہ سرمایہ کاروں کے لیے فیڈ لاٹس، قرنطینہ کی سہولتوں، مذبح خانوں اور گوشت کی پراسیسنگ کے کارخانوں کی مشینری درآمد کرنے کا انتظام بھی تجویز ہوا ہے۔

منصوبے کی منظوری کے بعد ان سہولتوں کو فعال بنانے کے لیے چوبیس ماہ کی مدت دینے، اور متعلقہ چیف کلکٹر کی اجازت سے مزید بارہ ماہ کی توسیع کی تجویز دی گئی ہے۔ پہلے مکمل مالی سال سے ٹریک اے کے تحت درآمد شدہ جانوروں کی تعداد میں کم از کم اسی فیصد اور ٹریک بی کے تحت مجموعی پیداوار کی مالیت میں کم از کم اسی فیصد برآمدی شرط پوری کرنا ہوگی؛ یہی تناسب اگلے چار مالی سال بھی برقرار رکھنے کا تقاضا ہے۔ مشینری کو کم از کم پانچ سال منظور شدہ جگہ پر نصب اور فعال رکھنا بھی شرط ہوگی۔

قواعد میں جانوروں کی پراسیسنگ کے لیے الگ مدت مقرر کی گئی ہے۔ قرنطینہ سے رہائی کے بعد مویشیوں کو 180 دن میں برآمد یا برآمدی گوشت کے لیے ذبح کرنا ہوگا، جبکہ بھیڑ اور بکریوں کے لیے 120 دن کی مدت رکھی گئی ہے۔ ٹریک بی میں ذبح کے بعد گوشت اور متعلقہ مصنوعات 120 دن میں برآمد کرنا ہوں گی۔ ذبح کی اجازت رجسٹرڈ برآمدی مراکز میں ویٹرنری نگرانی کے تحت ہوگی، اور مقامی اور درآمدی جانوروں کی پراسیسنگ کے انتظامات الگ رکھنے ہوں گے۔

یہ قواعد برآمد پر مبنی مخصوص شعبے کے لیے تجویز کردہ ٹیکس سہولت ہیں، تمام مویشیوں کی درآمد پر عمومی اور غیر مشروط چھوٹ نہیں۔ قواعد کی حتمی شکل اور عملی نفاذ کے بارے میں مزید سرکاری اطلاع اہم ہوگی۔ یہ تفصیلات روزنامہ ڈان کی 9 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں ایف بی آر کی جاری کردہ دستاویز کی بنیاد پر سامنے آئی ہیں۔