اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تجارت و ترقی، انکٹاد، نے نئی رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ 2026 کے دوران عالمی معیشت کی شرح نمو 2.6 فیصد رہ سکتی ہے۔ یہ تخمینہ 2025 کی 2.9 فیصد شرح کے مقابلے میں سست رفتار ترقی ظاہر کرتا ہے۔ نو اکتوبر کو جاری ہونے والے جائزے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری بحران اور اس سے پیدا ہونے والا توانائی کا جھٹکا عالمی معیشت کے لیے بڑا امتحان بن گیا ہے۔ یہ اعداد ادارے کی پیش گوئیاں ہیں، حتمی سالانہ نتائج نہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انکٹاد نے کہا کہ اشیا اور خدمات کی عالمی تجارت مستقل قیمتوں کی بنیاد پر چار فیصد بڑھنے کا امکان رکھتی ہے۔ اس سے پہلے 2025 میں بین الاقوامی تجارت کی مجموعی مالیت پینتیس ہزار ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچی تھی۔ ادارے نے واضح کیا کہ توانائی کی بلند قیمتیں تجارتی اعداد و شمار کو متاثر کر رہی ہیں؛ اس لیے صرف تجارت کی مجموعی قدر یا اضافے کو دنیا بھر میں یکساں معاشی خوش حالی کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
رپورٹ میں بڑی معیشتوں کے تجارتی تعلقات میں تبدیلی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ انکٹاد کے مطابق چین اور امریکا کی باہمی تجارت 2024 کے مقابلے میں بیس فیصد سے زیادہ کم ہوئی ہے، جبکہ مشرقی ایشیا کے بعض ممالک نے چین اور شمالی امریکا دونوں کے ساتھ اپنی تجارت بڑھائی ہے۔ ادارے نے برآمدی پابندیوں، غیر ملکی سرمایہ کاری کی جانچ اور سپلائی چین کی نئی شرائط کو ابھرتی ہوئی کمپنیوں اور ممالک کے لیے مشکلات قرار دیا۔
انکٹاد کا اندازہ ہے کہ 2026 میں عالمی معاشی ترقی کا انسٹھ فیصد حصہ ایشیا سے آ سکتا ہے۔ ادارے کی ملک وار پیش گوئیوں میں بھارت کی ترقی 7.3 فیصد، چین کی 4.5 فیصد اور انڈونیشیا کی 5.2 فیصد بتائی گئی ہے۔ ان تخمینوں سے خطے کی اہمیت واضح ہوتی ہے، تاہم ہر ملک کے لیے نمو کے مواقع اور خطرات مختلف رہیں گے۔
ادارے نے مصنوعی ذہانت سے متعلق مصنوعات، خصوصاً سیمی کنڈکٹرز، کو تجارتی سرگرمیوں کا ایک اہم محرک بتایا۔ اس کے ساتھ خبردار کیا گیا کہ اس شعبے کی تیز ترقی لازماً تمام ممالک یا معاشی طبقات تک فائدہ نہیں پہنچاتی۔ چند بڑی کمپنیوں میں مارکیٹ کی زیادہ توجہ مالی استحکام کے لیے الگ خطرہ بن سکتی ہے۔
دیگر عالمی اداروں کی پیش گوئیاں بھی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق عالمی بینک نے جون میں عالمی نمو کا اندازہ 2.5 فیصد تک گھٹایا تھا، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی متعلقہ پیش گوئی تین فیصد تھی۔ انکٹاد کی تازہ رپورٹ کے اعداد کو انہی اداروں کے الگ طریقہ کار اور جائزے کے اوقات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ آئندہ توانائی کی قیمتیں، علاقائی تنازعات اور تجارت پر پابندیاں عالمی معاشی منظرنامے پر اثر انداز رہ سکتی ہیں۔

