اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 8 اکتوبر 2026 کے اجلاس میں مقامی صنعت کی حمایت کے لیے مخصوص درآمدی ٹائروں اور موٹر سائیکل کے پرزوں پر اضافی کسٹم ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔ فیصلے کے مطابق مقامی طور پر تیار ہونے والے ریڈیل ٹائروں اور موٹر سائیکل کے متعلقہ پرزوں کی درآمد پر اضافی کسٹم ڈیوٹی چار فیصد سے بڑھا کر گیارہ فیصد کر دی گئی ہے۔
کمیٹی نے مقامی صنعت کاروں کی جانب سے درآمد کیے جانے والے موٹر سائیکل پرزوں پر اضافی کسٹم ڈیوٹی گیارہ فیصد سے بڑھا کر اکتیس فیصد کرنے کی منظوری بھی دی۔ سرکاری بیان کے مطابق ٹائروں کی درآمد پر اضافی ڈیوٹی کے لیے متعلقہ ایس آر او میں ترمیم منظور ہوئی ہے۔ حکومت کا بیان کردہ مقصد ملک کے اندر پیداوار کی حوصلہ افزائی ہے۔ تاہم ان فیصلوں سے مقامی مارکیٹ میں قیمتیں کس حد تک متاثر ہوں گی، اس بارے میں رپورٹ میں کوئی حتمی تخمینہ نہیں دیا گیا۔
اجلاس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تیار کردہ ایک مالیاتی فریم ورک کو بھی منظوری ملی جس کا مقصد چھوٹے کاروباروں اور چھوٹے کسانوں کی قرض تک رسائی میں توسیع کرنا ہے۔ فریم ورک کے تحت موجودہ رسک کوریج اسکیموں میں اہل مائیکرو فنانس اور غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو ایجنسی یا ہول سیل انتظام کے ذریعے شامل کیا جا سکے گا۔ رپورٹ کے مطابق چھوٹے اور درمیانے کاروباری قرضوں سے متعلق مختلف زمروں کے لیے پہلے نقصان کی کوریج کی شرح بیس فیصد اور چھوٹے کسانوں اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے دس دس فیصد رکھی گئی ہے۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ فنڈ کے متعلق ایک اضافی دستاویز کی منظوری بھی دی تاکہ موجودہ گارنٹی سہولت کے استعمال کا دائرہ وسیع ہو اور مناسب قیمت کی رہائشی فنانسنگ میں تعاون مل سکے۔ یہ فنڈ ابتدا میں وزیراعظم کی میرا پاکستان میرا گھر اسکیم سے متعلق تھا۔
مالی فیصلوں میں گیارہ ضمنی گرانٹس کی مجموعی رقم 57 ارب 85 کروڑ روپے بتائی گئی۔ ان میں اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے منظور شدہ کاروباری منصوبے کے لیے دو ارب روپے، یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کا عمل مکمل کرنے کے لیے صنعت و پیداوار ڈویژن کو 11 ارب 32 کروڑ 90 لاکھ روپے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے منصوبوں کے لیے آٹھ ارب روپے شامل ہیں۔ وزارت ریلوے کے لیے تھر کول ریل رابطہ منصوبے کی مد میں دس ارب روپے کی گرانٹ بھی منظور ہوئی۔
کمیٹی نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے وسائل سرکاری سیکیورٹیز میں لگانے کی منظوری بھی دی۔ ان فیصلوں کا اعلان عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ عملے کی سطح پر سمجھوتے کے اگلے روز سامنے آیا۔ درآمدی ڈیوٹی، قرض رسک کوریج اور ضمنی گرانٹس الگ نوعیت کے فیصلے ہیں؛ انہیں کسی ایک شعبے میں بالفعل مالی فائدہ پہنچنے کے تصدیق شدہ ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تفصیلات روزنامہ ڈان نے 9 اکتوبر کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں اور سرکاری بیان کے حوالے سے شائع کیں۔
