اسلام آباد: قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور تھوک و پرچون نرخوں کے درمیان فرق کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو نگرانی سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی صدارت میں ہوا، جس میں ہفتہ وار اور ماہانہ مہنگائی کی صورتحال، ضروری سامان کے نرخ اور گزشتہ فیصلوں پر عمل درآمد کے امور زیرِ بحث آئے۔ اجلاس بدھ 7 اکتوبر 2026 کو ہوا اور روزنامہ ڈان نے اس کی تفصیلات 9 اکتوبر کو شائع کیں۔
سرکاری بیان کے مطابق احسن اقبال نے خاص طور پر آٹے سمیت بنیادی اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو سپلائی، منڈیوں میں سامان کی آمد، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور بلاجواز اضافوں کی نگرانی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ یہ اقدامات نفاذ سے متعلق ہدایات ہیں؛ رپورٹ میں ان کے بعد قیمتیں کم ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
وزیر منصوبہ بندی نے ٹرانسپورٹ کرایوں پر بھی توجہ دی اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ کرایوں کا موازنہ پٹرولیم مصنوعات کی سابقہ قیمت میں اضافے کے بعد رائج کرایوں سے کریں۔ اس موازنے کا مقصد معلوم کرنا ہے کہ ایندھن کی لاگت میں اضافے کی نسبت کرایوں میں غیر متناسب اضافہ تو نہیں ہوا۔ اس مرحلے پر اجلاس نے مخصوص ٹرانسپورٹ کمپنی یا روٹ پر اضافی وصولیوں کی حتمی نشاندہی نہیں کی۔
اجلاس میں ڈی اے پی کھاد کی مقامی قیمتوں کا معاملہ بھی اٹھا۔ احسن اقبال نے وزارت قومی غذائی تحفظ کو ہدایت کی کہ وہ جائزہ لے کہ عالمی منڈی میں قیمت میں کمی کے باوجود پاکستان میں ڈی اے پی کی قیمت بلند کیوں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی نرخوں میں کمی کا فائدہ ملک کے اندر بھی نظر آنا چاہیے۔ اس سوال کے بارے میں کوئی حتمی تحقیقی نتیجہ اجلاس کی دستیاب رپورٹ میں درج نہیں تھا۔
گھی، کھانے کے تیل اور دودھ کی مصنوعات کے معیار سے متعلق معائنے اور جانچ کی رپورٹ ایک ہفتے کے اندر جمع کرانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ وزیر کے مطابق اگر متعلقہ صنعت تیسری پارٹی سے تصدیق چاہتی ہے تو اس کا خرچ حکومت کے بجائے صنعت کو اٹھانا چاہیے۔ اس فیصلے کا تعلق معیار کی جانچ کے انتظام سے ہے، اور اس کی بنیاد پر کسی مخصوص کمپنی کی مصنوعات کے غیر معیاری ہونے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ بالخصوص لاہور اور کراچی جیسی بڑی منڈیوں میں تھوک اور پرچون قیمتوں کے فرق پر نظر رکھیں اور بلاجواز فرق کی صورت میں قوانین کے مطابق کارروائی کریں۔ اجلاس میں اشیا کی ترسیل کے راستوں اور تقسیم کی لاگت پر بھی توجہ دینے کو کہا گیا تاکہ ایندھن کی قیمت میں اضافہ خوراک کے نرخوں میں غیر متناسب طریقے سے منتقل نہ ہو۔ روزنامہ ڈان کی رپورٹ کی روشنی میں اس وقت مصدقہ پیش رفت سرکاری ہدایات اور جائزہ اجلاس تک محدود ہے؛ مارکیٹ میں حتمی اثر جانچنے کے لیے بعد کی قیمتوں اور نفاذ کی معلومات درکار ہوں گی۔
