کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 8 اکتوبر 2026 کی کاروباری نشست کے دوران ابتدائی تیزی بعد میں مندی میں تبدیل ہو گئی۔ مارکیٹ نے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان عملے کی سطح پر معاہدے کی خبر کے بعد مثبت آغاز کیا، لیکن عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی اور علاقائی صورتحال سے متعلق خدشات کے درمیان سرمایہ کاروں نے منافع حاصل کرنے کے لیے حصص فروخت کیے۔ نتیجتاً مرکزی کے ایس ای 100 انڈیکس منفی سطح پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس ابتدائی کاروبار میں تقریباً 906 پوائنٹس اوپر گیا، تاہم یہ اضافہ برقرار نہ رہ سکا۔ کاروبار کے اختتام پر انڈیکس 1138 پوائنٹس، یعنی 0.68 فیصد، کی کمی سے 167442 پوائنٹس پر بند ہوا۔ رپورٹ میں دورانِ نشست انڈیکس کی حرکت کا دائرہ تقریباً 167450 سے 169487 پوائنٹس بتایا گیا۔ ابتدائی اور اختتامی اعداد کے فرق سے واضح ہے کہ سرمایہ کاروں کے رجحان میں ایک ہی سیشن کے دوران نمایاں تبدیلی آئی۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق آئی ایم ایف کے پروگراموں کے متعلق جائزوں کی کامیابی اور تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی ممکنہ قسط نے آغاز میں امید پیدا کی۔ تاہم فنڈز کی ادائیگی اب بھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط تھی۔ اس لیے اس قسط کو پہلے سے موصول شدہ رقم قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق متعلقہ پروگراموں سے مجموعی ادائیگی 5.7 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی، بشرطیکہ مطلوبہ منظوری حاصل ہو۔
تجزیہ کاروں نے بازار میں دباؤ کا ایک بڑا سبب عالمی خام تیل کی قیمت میں تقریباً چار فیصد اضافے کو قرار دیا۔ ان کے مطابق خلیج اور آبنائے ہرمز کے نزدیک بحری جہازوں سے متعلق سیکیورٹی خدشات، مشرقِ وسطیٰ میں رسد کے بارے میں بے یقینی اور امریکا و ایران کے تناؤ نے بھی سرمایہ کاروں کے رجحان کو متاثر کیا۔ یہ بازار کے تجزیہ کاروں کی تشریح ہے؛ صرف ایک روز کی قیمتوں کی حرکت سے کسی واحد وجہ کا قطعی ثبوت نہیں ملتا۔
مختلف بڑی کمپنیوں کے حصص میں فروخت کے دباؤ نے بھی انڈیکس گھٹانے میں کردار ادا کیا۔ رپورٹ میں یونائیٹڈ بینک، فوجی فرٹیلائزر، سسٹمز لمیٹڈ، اینگرو فرٹیلائزر، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم، حبیب بینک اور دیگر بڑی کمپنیوں کا ذکر آیا، جن کے مجموعی اثر کو تقریباً 601 انڈیکس پوائنٹس کی کمی بتایا گیا۔
بازار میں سرمایہ کاروں کی شرکت بھی کم رہی۔ کاروباری حجم 37.65 فیصد گھٹ کر 36 کروڑ 58 لاکھ 60 ہزار حصص رہ گیا جبکہ حصص کی مجموعی تجارتی مالیت 20.76 فیصد کم ہو کر 17.6 ارب روپے رہی۔ کے الیکٹرک کے 2 کروڑ 96 لاکھ حصص کا لین دین ہوا، جو اس روز حجم کے اعتبار سے نمایاں تھا۔
تجزیہ کاروں نے تیل کی عالمی قیمتوں اور خطے کی سیاسی و سلامتی صورتحال کے باعث مزید اتار چڑھاؤ کا امکان بیان کیا، لیکن اسے پیش گوئی سمجھنا چاہیے، یقینی نتیجہ نہیں۔ روزنامہ ڈان کی 9 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ اعداد 8 اکتوبر کے بازار کی صورتحال ظاہر کرتے ہیں اور آئی ایم ایف کے معاہدے سے متعلق مثبت خبر کے باوجود ایک دن کی مارکیٹ کارکردگی منفی رہی۔

