کراچی: بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک نے خبردار کیا ہے کہ ملک بھر میں ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی دستیابی محدود ہونے کی وجہ سے کراچی میں شام اور رات کے زیادہ طلب والے اوقات میں بجلی کی فراہمی کا انتظام متاثر ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ لوڈ مینجمنٹ کو صرف آخری اور انتہائی ناگزیر حل کے طور پر زیر غور لایا جائے گا۔

کمپنی کے ترجمان عمران رانا نے 9 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ بین الاقوامی سپلائی میں تعطل اور درآمدی کارگوز کی آمد میں تاخیر نے بجلی پیدا کرنے کے لیے دستیاب گیس پر دباؤ ڈالا ہے۔ یہ مسئلہ صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ ملک کے دوسرے پیداواری نظاموں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دن کے اوقات میں سپلائی بڑی حد تک مستحکم رہنے کی توقع ہے، جب کہ شام اور رات میں طلب بڑھنے کے ساتھ دستیابی کا مسئلہ زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔

کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور متعلقہ حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ حالات جلد معمول پر آئیں۔ کمپنی نے ممکنہ تکلیف پر صارفین سے معذرت بھی کی۔ تاہم اس بیان کو کسی نئے، طے شدہ لوڈشیڈنگ شیڈول کے اعلان کے طور پر نہیں لیا جا سکتا؛ کمپنی نے صرف اس امکان کی نشاندہی کی ہے جو ایندھن کی قلت برقرار رہنے کی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے۔

ملک میں درآمدی گیس کی فراہمی کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور اہم بین الاقوامی ترسیلی راستوں میں رکاوٹوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس صورت حال سے توانائی کی درآمدات کی منصوبہ بندی اور لاگت دونوں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حکام آنے والے موسم سرما کے لیے بھی ایل این جی کارگوز کی دستیابی کا منصوبہ تیار کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں۔

بجلی کے صارفین کے لیے اس پیش رفت کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ شام کے پیک اوقات میں رسد اور طلب کا توازن زیادہ اہم ہوگا۔ فی الحال کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ کون سے علاقوں میں یا کتنی دیر کے لیے بجلی بند کی جائے گی۔ کسی بھی عملی تبدیلی کے بارے میں حتمی معلومات متعلقہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے کی باقاعدہ اطلاع سے ہی واضح ہوں گی۔