وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے وزارت تجارت کو ہدایت کی ہے کہ سونے کے زیورات کی برآمد سے متعلق ویلیو ایڈیشن میکانزم میں تبدیلی کی سمری وفاقی کابینہ کو بھیجی جائے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق متعلقہ فریقوں، جن میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی شامل ہے، نے عالمی سونے کی قیمت سے منسلک موجودہ فیصدی طریقے کو معقول بنانے کی ضرورت سے اتفاق کیا۔ تاہم کابینہ کو سمری بھیجنے کی ہدایت حتمی منظوری یا نئے نرخوں کے فوری نفاذ کے برابر نہیں؛ تبدیلی کے لیے مجاز فورم کا فیصلہ اور متعلقہ قانونی یا ضابطہ جاتی ترمیم ضروری ہوگی۔
یہ معاملہ ایس آر او 760(I)/2013 کے تحت قیمتی دھاتوں کی درآمد اور سونے کے زیورات کی برآمد کے نظام سے متعلق ہے۔ صنعت کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 2013 میں ایس آر او جاری ہونے کے بعد عالمی سونے کی قیمت تقریباً 1,380 ڈالر فی اونس سے بڑھ کر لگ بھگ 5,100 ڈالر ہوگئی ہے۔ ان کے مطابق ویلیو ایڈیشن کو سونے کی مجموعی قدر کے فیصد سے جوڑنے کے باعث خام دھات مہنگی ہونے کے ساتھ برآمد کنندہ پر دکھائی جانے والی قدر بھی بڑھ جاتی ہے، خواہ زیور بنانے کی فی گرام محنت یا کاریگری اسی رفتار سے نہ بڑھی ہو۔ یہ صنعت کا معاشی استدلال ہے؛ اس کے برآمدات پر مکمل مقداری اثر کا الگ سرکاری تخمینہ خبر میں شامل نہیں۔
گولڈن آرٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز آف آرٹسٹک گولڈ جیولری کے نمائندے نے ابتدا میں سادہ چوڑیوں اور زنجیروں کے لیے ڈیڑھ ڈالر فی گرام، دوسرے سادہ زیورات کے لیے دو ڈالر اور نگینوں یا جڑاؤ والے زیورات کے لیے چار ڈالر فی گرام کی تجویز دی۔ مشاورت کے بعد ویلیو ایڈیشن کے مجوزہ معیار سادہ سونے کے زیورات کے لیے دو ڈالر، سادہ سونے کی زنجیروں کے لیے تین ڈالر اور جڑاؤ زیورات کے لیے پانچ ڈالر فی گرام طے کرکے آگے بڑھانے کی تجویز سامنے آئی۔ یہ اعداد ابھی مجوزہ نرخ ہیں، نافذ شدہ قانونی معیار نہیں۔
اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے بتایا کہ مرکزی بینک کو ویلیو ایڈیشن فیصد یا فی گرام بنیاد پر مقرر کیے جانے پر اصولی اعتراض نہیں اور اس نے فیصدی طریقہ لازمی رکھنے کا کوئی تحریری مؤقف جاری نہیں کیا۔ اس کے برعکس وزارت صنعت و پیداوار کے نمائندے نے موجودہ فیصدی نظام برقرار رکھتے ہوئے شرح کو کم اور علاقائی طریقوں کے مطابق کرنے کی رائے دی۔ یوں تمام فریق تبدیلی کی ضرورت پر بڑی حد تک متفق تھے، مگر موزوں حسابی طریقے پر مختلف آرا بھی سامنے آئیں۔
مشاورت میں قیمتی دھاتوں کی درآمد پر سیلز ٹیکس کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایس آر او 760 کے تحت ہونے والی درآمدات کو اصولاً کسٹم ڈیوٹی، اضافی کسٹم ڈیوٹی اور متعلقہ ٹیکسوں سے مستثنیٰ رکھنے کا تصور تھا، مگر سیلز ٹیکس ایکٹ کی موجودہ عبارت اس پورے نظام سے مکمل طور پر ہم آہنگ نہیں۔ اس وقت انٹرسٹمنٹ اسکیم کے تحت درآمد شدہ سونا چھٹے شیڈول کی متعلقہ اندراج کے ذریعے سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، جبکہ سیلف کنسائنمنٹ اسکیم اور واپس نہ بکنے والے زیورات کی بعض درآمدات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو رہتا ہے۔
فریقوں نے تجویز دی کہ چھٹے شیڈول میں استثنا کی عبارت کو صرف انٹرسٹمنٹ اسکیم تک محدود رکھنے کے بجائے ایس آر او 760 کے تحت درآمد سے منسلک کیا جائے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے اس مسئلے کو وفاقی بجٹ 2026-27 میں حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی، مگر بجٹ میں مطلوبہ تبدیلی شامل نہیں ہوئی۔ موجودہ اجلاس میں معاملہ متعلقہ فورم کے سامنے لے جانے پر اتفاق ہوا؛ اس لیے 18 فیصد ٹیکس کو ابھی ختم شدہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
تیسرا اختلاف برآمدی آمدن کی وصولی سے متعلق تھا۔ موجودہ نظام میں برآمد کنندہ کو کم از کم 50 فیصد رقم معمول کے بینکاری ذرائع سے غیر ملکی کرنسی میں پاکستان لانا ہوتی ہے، جبکہ باقی نصف غیر ملکی کرنسی یا قیمتی دھات کی صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔ صنعت نے سونے کی عالمی و مقامی قیمت اور شرح مبادلہ کے فرق کی بنیاد پر 100 فیصد برآمدی آمدن سونے میں وصول کرنے کی اجازت مانگی۔ بیشتر شرکا نے اس تجویز کی حمایت کی، لیکن اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے موجودہ 50:50 بندوبست برقرار رکھنے کی حمایت کی اور تحریری غور کے لیے باقاعدہ تجویز طلب کی۔ اس اختلاف پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
وزیر تجارت نے متنازع نکات پر تمام متعلقہ اداروں کا الگ اجلاس بلانے اور جامع پالیسی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قیمتی دھات کی درآمد، زیورات کی تیاری، ویلیو ایڈیشن، ٹیکس استثنا اور برآمدی آمدن ایک دوسرے سے منسلک ہونے کے باعث کسی ایک شرح کی تبدیلی کے ساتھ کسٹمز، بینکاری اور ٹیکس قواعد میں ہم آہنگی بھی درکار ہوگی۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ویلیو ایڈیشن کے فی گرام مجوزہ معیار پر کابینہ کی منظوری لینے کی ہدایت، سیلز ٹیکس استثنا کی عبارت بدلنے کی تجویز اور برآمدی آمدن کے طریقے پر برقرار اختلاف ہے۔ نئی پالیسی اس وقت نافذ ہوگی جب کابینہ اور متعلقہ ادارے رسمی منظوری، نوٹیفکیشن اور قانونی ترامیم مکمل کریں گے۔




