لاہور: وفاقی حکومت اور جماعتِ اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے بوجھ میں ممکنہ کمی کے لیے الگ الگ ماہر کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ 3 ستمبر 2026 کو لاہور میں حکومتی وفد اور جماعتِ اسلامی کی قیادت کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں سامنے آیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ اور جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے مذاکرات کی پیش رفت بتائی۔
احسن اقبال کے مطابق حکومت اپنی ماہر کمیٹی قائم کرے گی اور جماعتِ اسلامی سے بھی تکنیکی ٹیم نامزد کرنے کو کہا گیا ہے۔ دونوں ٹیمیں پیٹرولیم لیوی میں کمی، ایندھن کی قیمتوں سے عوام پر پڑنے والے بوجھ اور ممکنہ مالی متبادل کا جائزہ لیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قابلِ عمل تجاویز پر غور کرے گی اور اپنی مالی پوزیشن بھی مذاکراتی میز پر رکھے گی۔ رانا ثنا اللہ نے امید ظاہر کی کہ کمیٹیاں تقریباً دو ہفتے میں کسی عملی فارمولے تک پہنچ سکتی ہیں۔
یہ پیش رفت پیٹرولیم لیوی میں کمی کا حتمی یا نافذ شدہ فیصلہ نہیں۔ فی الحال صرف مذاکراتی ڈھانچہ بنانے اور سفارشات مرتب کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ کسی نئی شرح، قیمت میں فوری کمی، بجٹ میں ردوبدل یا نفاذ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سفارشات سامنے آنے کے بعد بھی انہیں وفاقی مالیاتی تقاضوں، متعلقہ وزارتوں اور حکومت کی منظوری کے مراحل سے گزرنا ہو گا۔
جماعتِ اسلامی نے اپنی کمیٹی کی سربراہی لیاقت بلوچ کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پارٹی کی بنیادی تجاویز میں پیٹرولیم لیوی ختم یا کم کرنا، پٹرول کی قیمت گھٹانا، بجلی کے اخراجات کم کرنا اور کم آمدن شہریوں کے لیے ضروری خوراک سستی کرنا شامل ہے۔ یہ جماعتِ اسلامی کے مطالبات ہیں، حکومتی طور پر منظور شدہ اقدامات نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے دوران احتجاجی دھرنے جاری رہیں گے۔
ملاقات کے روز جماعتِ اسلامی کی پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر ہڑتال بھی ہوئی، جبکہ مختلف شہروں میں کئی ہفتوں سے دھرنے جاری تھے۔ کاروباری سرگرمیوں پر اثر مختلف علاقوں میں یکساں نہیں رہا: بعض بازار اور تجارتی مراکز بند رہے، جب کہ کئی مقامات پر معمول یا جزوی سرگرمی جاری رہی۔ جماعتِ اسلامی نے احتجاج کو کامیاب قرار دیا، تاہم اس دعوے کی ملک بھر کے لیے کوئی واحد سرکاری پیمائش جاری نہیں ہوئی۔
معتبر پاکستانی رپورٹس کے مطابق حکومت پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی، کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر محصولاتی مدات سے نمایاں آمدن حاصل کرتی ہے۔ جماعتِ اسلامی کا مؤقف ہے کہ یہ بوجھ بالخصوص موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے کم آمدن شہریوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کو قرض پروگرام، بجٹ اہداف اور محصولات کی ضرورت کے درمیان ممکنہ رعایت کا مالی متبادل تلاش کرنا ہو گا۔
بات چیت میں بجلی کے نرخ اور آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں کے معاہدے بھی زیرِ بحث آئے۔ جماعتِ اسلامی نے مزید معاہدوں پر نظرثانی کی تجویز پیش کی، جبکہ حکومتی نمائندوں نے کہا کہ متعلقہ مالیاتی، پیٹرولیم اور دیگر محکموں کے ماہرین تکنیکی سطح پر تجاویز کا جائزہ لیں گے۔ اس مرحلے پر کسی نئے بجلی معاہدے کی منسوخی یا نرخ میں کمی کا فیصلہ نہیں ہوا۔
آئندہ پیش رفت کا اصل پیمانہ کمیٹیوں کی تشکیل، ان کے تحریری قواعدِ کار، مالی تخمینے، متفقہ سفارشات اور وفاقی حکومت کے نافذ کردہ فیصلے ہوں گے۔ دھرنوں کے جاری رہنے سے حکومت پر سیاسی دباؤ برقرار ہے، مگر عوام کو فوری قیمت ریلیف صرف اسی وقت ملے گا جب کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن یا قیمت ساز فیصلہ جاری کیا جائے گا۔




