اسلام آباد: وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں ایک قانون سازی کا مسودہ پیش کیا ہے جس کا مقصد پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (P3A) اور نجکاری کمیشن کے افعال کو یکجا کر کے نجکاری اور سرکاری اثاثوں سے متعلق معاملات کے لیے ایک مرکزی یا ’امبریلا‘ ادارہ قائم کرنا ہے۔ ڈان کی 26 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ قانون میں ادارہ جاتی انضمام کے ساتھ بعض موجودہ اور سابق عہدیداروں کے لیے ان کے سرکاری فرائض کے دوران کیے گئے اقدامات یا کوتاہیوں سے متعلق قانونی اور تفتیشی تحفظ کی شقیں بھی شامل ہیں۔

قانون سازی کا بنیادی مقصد نجکاری، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور سرکاری اثاثوں سے متعلق فیصلوں کو ایک مربوط انتظامی ڈھانچے میں لانا بتایا گیا ہے۔ حکومت گزشتہ عرصے سے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری اور نجی شعبے کی شمولیت بڑھانے پر کام کر رہی ہے، اس لیے مجوزہ انضمام کو اسی وسیع پالیسی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

بل میں حکام کے لیے تجویز کردہ تحفظ اہم قانونی پہلو ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تحفظ موجودہ اور سابق چیئرمینوں اور دیگر متعلقہ افسران تک پھیل سکتا ہے، تاہم اس کا حتمی دائرہ قانون کی منظوری اور منظور شدہ متن پر منحصر ہوگا۔ کسی بل کا قومی اسمبلی میں پیش ہونا اس کے قانون بننے کے مترادف نہیں ہوتا؛ اسے پارلیمانی مراحل، ممکنہ ترامیم اور متعلقہ منظوریوں سے گزرنا ہوگا۔

نجکاری کے عمل میں سرمایہ کاروں کا اعتماد، اثاثوں کی شفاف قدر بندی، مسابقتی بولی، ملازمین کے حقوق اور ریاستی مفاد جیسے معاملات مسلسل اہم رہے ہیں۔ ایک مشترکہ ادارہ قائم ہونے کی صورت میں حکومت کو مختلف اداروں کے اختیارات، جواب دہی اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو واضح کرنا ہوگا تاکہ انتظامی تداخل کم ہو اور نگرانی کے تقاضے برقرار رہیں۔

مجوزہ قانون پر پارلیمانی بحث میں خاص طور پر استثنیٰ اور قانونی تحفظ کی شقوں کا جائزہ اہم ہوگا، کیونکہ ایسے تحفظات کا تعلق سرکاری فیصلوں پر بعد ازاں احتساب اور تحقیقات کے دائرے سے بھی بنتا ہے۔ اس مرحلے پر یہ ایک حکومتی تجویز ہے، اس لیے حتمی قانونی اثرات صرف پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے متن کے بعد واضح ہوں گے۔