وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عمران خان کے طبی معائنے اور سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد سے متعلق جاری تنازع میں حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم کے اہل خانہ پر عدالتی ہدایات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ڈان کی 22 اگست کی رپورٹ کے مطابق وزیر اطلاعات نے پریس بریفنگ میں کہا کہ حکومت نے طبی مسئلے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں معائنہ کروا کر حکم کی بنیادی ذمہ داریاں پوری کیں۔ یہ حکومتی دعویٰ ہے؛ اس پر حتمی قانونی فیصلہ عدالت نے نہیں سنایا۔
عطا تارڑ کے مطابق عمران خان کا معائنہ ہوا، ان کی بہن موجود تھیں اور شفا انٹرنیشنل اسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی طبی جانچ میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اپنے قانونی اعتراضات نظرثانی درخواست میں رکھے اور ساتھ ہی طبی معائنے کے انتظامات کیے۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قیدی کے علاج اور نجی اسپتال کی سہولت سے متعلق مساوی اطلاق کے سوالات عدالت کے سامنے رکھے گئے ہیں، لیکن اس عمل کو حکم سے انکار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وزیر اطلاعات نے پی ٹی آئی کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست اور بعد کی پریس کانفرنسوں کو بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سپریم کورٹ نے خاندان، جماعتی کارکنوں اور وکلا کو اگلی سماعت تک طبی معلومات عوامی سطح پر جاری نہ کرنے کی ہدایت کی تھی، اس لیے اسپتال کے گرد اجتماع، سوشل میڈیا مواد اور بیانات خود ان پابندیوں کے دائرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر توہین ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت کے بجائے ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے معاملے کو سیاسی سرگرمی میں تبدیل کیا۔
دوسری طرف عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 18 اگست کے حکم کے مطابق انہیں شفا انٹرنیشنل منتقل نہیں کیا گیا۔ پی ٹی آئی بھی اس اقدام کو عدالتی حکم کی عدم تعمیل قرار دے رہی ہے۔ حکومت اس تشریح سے اختلاف کرتی ہے اور کہتی ہے کہ پمز میں معائنہ شفاف انداز میں ہوا۔ یوں بنیادی تنازع یہ ہے کہ آیا پمز میں جانچ کو شفا منتقلی کے واضح حکم کا کافی نفاذ سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں۔
اس مرحلے پر دونوں فریقوں کے بیانات دعوے اور قانونی مؤقف ہیں۔ توہین عدالت، حکم کی تعبیر اور کسی فریق کی ذمہ داری کا تعین سپریم کورٹ ہی کر سکتی ہے۔ خبر میں وزیر اطلاعات کی بات کو حکومتی مؤقف اور پی ٹی آئی کے اعتراض کو مخالف فریق کا دعویٰ سمجھنا ضروری ہے؛ کسی الزام کو ثابت شدہ عدالتی نتیجہ نہیں کہا جا رہا۔ اگلی عدالتی کارروائی سے یہ واضح ہوگا کہ عدالت طبی معائنے، اسپتال کے انتخاب اور عوامی بیانات سے متعلق پابندیوں کو کس طرح دیکھتی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




