سندھ حکومت نے صوبے بھر میں پبلک سروس گاڑیوں کے درست کاغذات اور حفاظتی معیار کی جانچ کے لیے فوری مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق صوبائی اور علاقائی ٹرانسپورٹ اتھارٹیز، ضلعی ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز اور موٹر وہیکل انسپیکشن ونگ کو ہدایت دی گئی ہے کہ بغیر ڈیجیٹل روٹ پرمٹ، درست فٹنس سرٹیفکیٹ یا لازمی آگ بجھانے والے آلے کے چلنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، جن کے پاس ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کا قلمدان بھی ہے، نے کہا کہ اس مہم کا مقصد مسافروں کی سلامتی کو لاحق خطرات کم کرنا ہے۔ کراچی اور دیگر اضلاع میں ناقص حالت کی بسوں، وینوں اور کوچز سے متعلق شکایات کے پس منظر میں تمام متعلقہ اداروں کو فوری معائنہ شروع کرنے کا کہا گیا۔ محکموں کو ہر پندرہ دن بعد کارروائی اور مزید بہتری کی سفارشات پر مشتمل رپورٹ بھی جمع کرانا ہوگی۔
ہدایت کے مطابق تمام پبلک سروس گاڑیوں کے ڈیجیٹل روٹ پرمٹ کی تصدیق کی جائے گی، جبکہ دستی پرمٹ غیر مؤثر قرار دے کر منسوخ کیے جائیں گے۔ خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں اور آپریٹرز کی جامع فہرست بنائی جائے گی۔ ضرورت کے مطابق جرمانہ، روٹ پرمٹ کی معطلی اور لائسنس کی منسوخی جیسے قانونی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ بار بار خلاف ورزی کرنے والے آپریٹرز کو بلیک لسٹ کرنے کی سفارش بھی دی گئی ہے۔
درست فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر چلنے والی گاڑی کو موقع پر ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ فعال اور مقررہ معیار کے مطابق آگ بجھانے والا آلہ ہر پبلک سروس گاڑی میں لازمی ہے، کیونکہ اس کی عدم موجودگی حادثے یا آگ کی صورت میں مسافروں کے لیے براہ راست خطرہ پیدا کرتی ہے۔ مہم کی کامیابی کا انحصار مستقل معائنہ، یکساں نفاذ اور رشوت یا امتیازی کارروائی سے بچنے کے انتظام پر ہوگا۔
اعلان کے بعد قابل جانچ نتائج میں معائنہ کی گئی گاڑیوں کی تعداد، درست کیے گئے پرمٹ، ضبط شدہ غیر فٹ گاڑیاں، اپیل کا طریقہ اور حادثات میں تبدیلی شامل ہوں گے۔ فی الحال حکومت نے کارروائی کا حکم دیا ہے؛ مکمل نفاذ یا پورے صوبے کی گاڑیوں کے محفوظ ہو جانے کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرانسپورٹرز کو کاغذات اور حفاظتی آلات درست رکھنے جبکہ مسافروں کو واضح خلاف ورزی متعلقہ اتھارٹی کو رپورٹ کرنے کی ضرورت ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




