وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کے جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ملک کے پہلے مخصوص ہارٹ ٹرانسپلانٹ مرکز کا افتتاح کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اعلان کیا کہ مستحق مریضوں کے دل کی پیوندکاری کا علاج مفت ہوگا اور صوبائی حکومت ایک ٹرانسپلانٹ کے لیے 50 ہزار ڈالر تک کے اخراجات برداشت کرے گی۔ یہ افتتاح اور حکومتی اعلان صحت کے شعبے میں ایک نئی سہولت کا آغاز ہے، تاہم مریضوں کے انتخاب، ڈونر نظام اور عملی تعداد کے نتائج وقت کے ساتھ سامنے آئیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ چینی ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی لاگت تقریباً 10 ہزار ڈالر تک کم کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ زیادہ مریض فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ متوقع لاگت حکومتی ہدف ہے، مکمل طبی اور مالی نتیجہ نہیں۔ پیوندکاری کے عمل میں مریض کی طبی اہلیت، عطیہ کنندہ کی دستیابی، قانونی منظوری، بعد از آپریشن نگہداشت اور مسلسل ادویات اہم عناصر ہوتے ہیں؛ صرف مرکز کھلنے سے ہر مریض فوری طور پر اس عمل کا امیدوار نہیں بن جاتا۔

جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی 250 بستروں پر مشتمل خودمختار ادارہ ہے جسے 16 ارب روپے کی لاگت سے جناح اسپتال کے رہائشی علاقے کے سامنے تعمیر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ادارے میں کیتھیٹرائزیشن لیبارٹری، ایم آر آئی، ماڈیولر آپریشن تھیٹر، کارڈیک وارڈز، پیتھالوجی اور ریڈیالوجی لیبارٹریاں، انتہائی نگہداشت اور ایمرجنسی شعبے قائم کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ادارہ مکمل طور پر فعال ہے اور وہاں انجیوگرافی کے طریقہ علاج بھی کیے جا چکے ہیں۔

برطانیہ میں کام کرنے والے ماہر امراض قلب ڈاکٹر حسنات خان نے پاکستان واپس آ کر خدمات میں حصہ لینے اور مقامی ڈاکٹروں و عملے کی تربیت میں مدد دینے کا عندیہ دیا۔ ہارٹ ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لیے تربیت یافتہ کثیر شعبہ جاتی ٹیم، محفوظ اعضا کی منتقلی، انفیکشن کنٹرول اور طویل مدتی فالو اپ بنیادی تقاضے ہیں۔ سرکاری اعلان کے بعد اہم سوال یہ ہوگا کہ پروگرام ان تمام معیاروں کو شفاف اور مسلسل انداز میں کیسے نافذ کرتا ہے۔

افتتاح سے پنجاب میں پیچیدہ قلبی علاج کی مقامی صلاحیت بڑھانے کا امکان ہے اور بیرون ملک مہنگے علاج پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود خبر میں کسی کامیاب پیوندکاری یا مخصوص مریض کے نتیجے کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا، کیونکہ دستیاب رپورٹ مرکز کے افتتاح اور آئندہ علاج کے منصوبے سے متعلق ہے۔ پروگرام کی اصل کارکردگی مکمل کیے گئے طریقہ علاج، مریضوں کے نتائج، انتظار کی مدت اور سرکاری اخراجات کے شفاف ریکارڈ سے جانچی جا سکے گی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک