وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے افتتاح کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پر سخت تنقید کی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پیپلز پارٹی کو بدعنوانی اور پی ٹی آئی کو انتشار سے جوڑتے ہوئے دونوں جماعتوں سے کہا کہ وہ عوامی خدمت میں مسلم لیگ ن کی پیروی کریں۔ یہ سیاسی الزامات وزیراعلیٰ کا مؤقف ہیں؛ بدعنوانی یا انتخابی بے ضابطگی سے متعلق کوئی نیا عدالتی فیصلہ اس تقریر میں پیش نہیں کیا گیا۔
مریم نواز کے بیان نے وفاقی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ مسلم لیگ ن کے بڑھتے لفظی اختلاف کو نمایاں کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی کے رہنما وفاقی اور پنجاب حکومتوں کے سیاسی مینڈیٹ اور آزاد کشمیر میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ جواب میں مسلم لیگ ن کے رہنما پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکمرانی اور کارکردگی پر سوال اٹھاتے رہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کو نشانہ بنایا گیا تو ان کی جماعت جواب دے گی۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری پہلے ہی پیپلز پارٹی کے ساتھ لفظی تبادلے میں شامل تھیں اور انہوں نے ناقدین پر پنجاب کی ترقی سے حسد کا الزام لگایا تھا۔ دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ عوام اصل اور مبینہ فارم 47 مینڈیٹ کا فرق جانتے ہیں۔ دونوں طرف کے یہ بیانات سیاسی دعوے ہیں اور انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں پیش کیا جا رہا۔
وفاق میں اتحادی رہتے ہوئے صوبائی سطح پر مقابلہ پاکستانی سیاست میں غیر معمولی نہیں، لیکن مسلسل سخت زبان قانون سازی، بجٹ اور بین الصوبائی تعاون پر اثر ڈال سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی وفاقی حکومتی ڈھانچے میں تعاون کرتی ہے جبکہ پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے مقابل سیاسی جگہ بھی بنانا چاہتی ہے۔ اسی دوہرے کردار کے باعث بیانات میں تناؤ اور عملی تعاون بیک وقت جاری رہ سکتا ہے۔
اگلی اہم علامت یہ ہوگی کہ دونوں جماعتیں پارلیمانی معاملات، مشترکہ فیصلوں اور آزاد کشمیر یا مقامی حکومتوں سے متعلق اختلافات کو کس انداز میں سنبھالتی ہیں۔ موجودہ خبر تقریر اور اس کے سیاسی پس منظر تک محدود ہے۔ کسی جماعت یا رہنما کے خلاف الزام کو عدالتی یا تفتیشی طور پر ثابت نہیں کہا گیا، اور متعلقہ جماعتوں کو اپنے مؤقف کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




