راولپنڈی کے علاقے لال کڑتی میں ایک 45 سالہ خاتون کی موت کی تحقیقات کے سلسلے میں پولیس نے ان کے شوہر اور گھریلو ملازم کو حراست میں لیا ہے، جبکہ بزرگ سسر سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق حنا جاوید نامی خاتون جمعرات کی شام عسکری اپارٹمنٹس کے ایک فلیٹ کے واش روم میں مردہ پائی گئیں۔ یہ ایک جاری فوجداری تفتیش ہے؛ حراست، ایف آئی آر اور مدعی کے الزامات کو کسی ملزم کی عدالتی طور پر ثابت شدہ ذمہ داری نہیں سمجھا جا سکتا۔
سول لائنز تھانے میں 20 اگست کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں خاتون کے بھائی فہد جاوید نے شوہر فیصل اصغر امام، سسر اصغر علی فیاض اور گھریلو ملازم ذیشان ارشد پر شبہ اور الزامات ظاہر کیے۔ مدعی کے مطابق انہیں شام 6 بج کر 53 منٹ پر ہنگامی صورت حال کی اطلاع ملی اور وہ خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ تقریباً ساڑھے سات بجے فلیٹ پہنچے۔
پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاتون کے ہاتھ پشت کی جانب بندھے تھے، چہرے اور سر پر کپڑا تھا اور گردن کے گرد تار موجود تھی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم میں گردن پر نشان، ہونٹ کے نیچے زخم اور خون بہنے کا ذکر کیا گیا۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے اور لاش کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ خبر میں احترام اور غیر گرافک انداز برقرار رکھتے ہوئے صرف تفتیشی طور پر ضروری تفصیلات دی جا رہی ہیں۔
مدعی نے ایف آئی آر میں دعویٰ کیا کہ ان کی بہن کو مبینہ طور پر شوہر کی جانب سے تشدد اور بدسلوکی کا سامنا تھا اور ممکن ہے کہ موت سے پہلے کوئی زہریلی چیز دی گئی ہو۔ یہ الزامات ابھی فرانزک، پوسٹ مارٹم اور تفتیشی نتائج سے ثابت ہونا باقی ہیں۔ پولیس نے رپورٹ کے وقت کسی حتمی وجہ موت یا چارج شیٹ کا اعلان نہیں کیا، اس لیے زہر، تشدد یا کسی مخصوص شخص کے کردار سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
اگلے مراحل میں مکمل پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک نمونوں کا تجزیہ، گواہوں کے بیانات اور ملزمان کا قانونی جواب اہم ہوں گے۔ حراست تفتیشی اقدام ہے اور ہر ملزم کو منصفانہ سماعت اور بے گناہی کے مفروضے کا حق حاصل ہے۔ تصدیق شدہ بات اتنی ہے کہ خاتون کی موت پر مقدمہ درج ہوا، دو افراد زیر حراست ہیں، ایک شخص سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے اور فرانزک شواہد جمع کیے گئے ہیں۔ مزید دعووں کی قانونی حیثیت عدالت اور تفتیشی ریکارڈ سے طے ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




